انجمن مزارعین پنجاب کے رہنما مہر عبدالستار نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی

مہر عبدالستار نے 4 سال تک جھوٹے مقدمات اور جیل کا سامنا کیا اور ہزاروں کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، حماد اظہر نے کسان رہنما کی تحریک انصاف میں شمولیت کی تصدیق کردی

اوکاڑہ کی  نامور شخصیت اور انجمن مزارعین پنجاب کے سیکریٹری جنرل مہر عبدالستار نے پاکستان تحریک انصاف  میں شمولیت اختیار کر لی  ۔

انجمن مزارعین پنجاب   کے رہنما مہر عبدالستار کسانوں اور کسانوں کے مالکانہ حقوق کے لیے تحریک چلانے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں  جبکہ کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہوں نے برسوں جیل بھی کاٹی۔

یہ بھی پڑھیے

 پنجاب میں ضمنی انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل

سابق گورنر پنجاب کو مشیر داخلہ پنجاب بنانے کا فیصلہ

تحریک انصاف کے رہنما  اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہار نے تحریک انصاف کے جھنڈے والا مفلر گلے میں ڈال کر مہرعبدالستار کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کیا۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ مزارین تحریک کے سربراہ مہر عبدالستار آج پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چار سال تک جھوٹے مقدمات اور جیل کا سامنا کیا اور ہزاروں کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔

ستمبر 2020 میں انجمن مزارعین پنجاب کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار جب ساڑھے 4سال جیل کاٹنے کے بعد اوکاڑہ ملٹری فارمز پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔

مہر عبدالستار کوکسانوں کے عالمی دن پر ریلی نکالنے کے اعلان پر  16 اپریل 2016 کو ملٹری فارمز میں واقع ان کے گاؤں چک 4/4-L میں گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا  ۔ساہیوال کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں 2018 میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

وہ 2001 سے ملٹری فارمزمیں مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے کسانوں کی تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ جنرل (ر)مشرف کے خلاف پہلی بڑی عوامی تحریک تھی کیونکہ ان کے گاؤں میں مجموعی طور پر 19 ملٹری فارمز انتظامیہ نے محاصرے میں لے لیے تھے۔ خواتین کسان تحریک میں سب سے آگے تھیں۔

اس دوران کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب انتظامیہ نے کسانوں کیلیے ٹھیکیداری نظام لانے کی تجویز پیش کی اورجواباً کسانوں نے اپنی فصل انتظامیہ کو دینے  سے انکار کردیا۔ مہر ستار سمیت کسان رہنماؤں کے خلاف بھتہ خوری، غداری، دہشت گردی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور پولیس پر حملے کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔

عاصمہ جہانگیر، زاہد بخاری، اعظم نذیر تارڑ، عابد ساقی، فاروق احمد باجوہ اور آذر لطیف خان جیسے سینئر وکلانے قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، غیر قانونی اجتماعات اور دیگر مقدمات میں مختلف مراحل میں  مہرعبدالستار کی نمائندگی کی۔

قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مہرعبدالستارکی رہائی کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ایک ٹیم نے ان کی گرفتاری کے بعد اوکاڑہ کا دورہ کیا تھا اور ایک رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات کی واضح طور پر تردید کی تھی اور تجویز دی تھی کہ تمام کسان رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور ان کے اور فارم انتظامیہ کے درمیان تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

ستار کے خلاف 2001 سے 2016 کے درمیان درج کیے گئے 36 مقدمات میں سے ایک میں  ان پر سڑک کی ناکہ بندی کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل پر فائرنگ کرنے کا بھی الزام تھا۔ کانسٹیبل کسی تصادم میں معمولی زخمی ہوا تھا۔ اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ کئی دیگر کیسوں میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پراسیکیوٹر لاہور ہائیکورٹ کو مطمئن نہ کرسکا ۔ کیس کی سماعت کرنے والے جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر مہرعبدالستار نے7 فٹ کے فاصلے سے گولی چلائی تھی تو گولی کانسٹیبل کو معمولی چوٹ لگنے کے بجائے اس کےجسم سے آر پار ہوجانی چاہیے تھی۔ بعد ازاں عدالت عالیہ  نے سزا کے خلاف  مہر عبدالستار کی اپیل منظورکرلی تھی ۔

متعلقہ تحاریر