سپریم کورٹ نے ریکوڈک منصوبےکا نیا معاہدہ قانونی قرار دیدیا
چیف جسٹس پاکستان عمر عطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نےریکوڈک صدارتی ریفرنس پر مختصر رائے کا اظہار کر دیا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھے گئے ایک سوال پر رائے نہیں دی۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں واقع ریکوڈک معدنی منصوبے کے بلوچستان حکومت اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان ہونے والے نئے معاہدے کو قانونی قرار دے دیا۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نےریکوڈک صدارتی ریفرنس پر مختصر رائے کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ کا ریکوڈک منصوبے میں چھوٹ اور رولز میں نرمی کی پالیسی بنانے کا حکم
ریکوڈک منصوبے پر صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ، رائے محفوظ
13 صفحات پر مشتمل ریکوڈک ریفرنس کا مختصر فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہےتاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھے گئے ایک سوال پر رائے نہیں دی۔
صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریکوڈک ریفرنس 15 اکتوبرکو سپریم کورٹ بھیجا تھا۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 17 سماعتیں ہوئیں۔ عدالتِ عظمیٰ میں 2 ہفتے قبل صدارتی ریفرنس پر وکلاء و عدالتی معاونین نے دلائل مکمل کئے تھے۔ پانچ رُکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس پر 29 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کو معاہدے پر اعتماد میں لیا گیا اور معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی، ریکوڈک معاہدہ قانون سے متصادم نہیں ہے۔ریکوڈک معاہدے کے مطابق زیادہ تر ورکرز پاکستانی ہوں گے،بیرک گولڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ لیبر قوانین پر عمل درآمد ہو گا، اس کمپنی نے سماجی ذمے داری نبھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ یہ معاہدہ فردِ واحد کیے لیے نہیں، پاکستان کے لیے ہے، اس معاہدے میں کوئی غیر قانونی شق نہیں۔
سپریم کورٹ نے رائے دی کہ آئینِ پاکستان خلافِ قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا، صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں ترامیم اور تبدیلی کر سکتے ہیں، بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی، نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں۔
عدالت قرار دیا ہے کہ ریکوڈک معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013ءکے فیصلے کے خلاف نہیں، یہ معاہدہ ماحولیات سے متعلق بھی درست ہے، ماہرین کی رائے لے کر ہی وفاقی اور صوبائی حکومت نے معاہدہ کیا، منتخب عوامی نمائندوں نے معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ فارن انویسٹمنٹ بل خصوصی طور پر صرف بیرک گولڈ کے لیے نہیں، یہ بل ہر اُس کمپنی کے لیے ہے جو 500 ملین ڈالرز سے زیادہ سرمایہ کاری کرے گی۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کیس میں بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی، معدنی وسائل کی ترقی کے لیے سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومت قانون بنا چکی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کے پہلے سوال کا جواب نہیں دیا اور قرار دیا کہ ریفرنس کا پہلا سوال پالیسی معاملہ ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی اپنے نوٹ میں وجوہات بھی تحریر کریں گے۔
چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل طو رپر کام شروع نہیں ہو سکا۔
حکومتِ پاکستان نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی اٹھانا پڑے ہیں۔گزشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل نے پاکستان پر ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ کیا تھا۔
رواں سال 21مارچ 2022 کو پاکستان نے بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ عدالت سے باہر ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کمپنی نے پاکستان پر عائد اربوں ڈالر جرمانہ معاف کرنے اور 2011 سے رکے کان کنی کے منصوبے کو بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کارپوریشن نے 14 اگست 2022 سے اس پراجیکٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس منصوبے سے متعلق جاری معلومات کے مطابق اس منصوبے کے منافع میں سے بیرک گولڈ 50 فی صد، پاکستان کی وفاقی حکومت کے ادارے 25 فی صد، اور بلوچستان حکومت 25 فی صد حصے کے حق دار ہوں گے۔









