پاکستان میں مضر صحت ڈسپوزایبل برتنوں کا استعمال

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرماکول سے بنے کپس اور پلیٹس سرطان کا بڑا سبب ہیں۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سیکڑوں ہوٹلز اور ریسٹورانٹس میں تھرموکول سے بنے مضر صحت ڈسپوزایبل برتنوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

ہوٹلزمیں تھرموکول سے بنے ڈسپوزیبل برتنوں کا استعمال حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہے جبکہ ریسٹورانٹس کے پاس ان برتنوں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے یا ‘ری سائیکلنگ’ کا کوئی نظام بھی موجود نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ڈسپوزایبل برتنوں کو زیادہ تر جلا دیا جاتا ہے جو ماحولیات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرموکول سے بنے کپس اور پلیٹس سرطان کا بڑا سبب ہیں۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سرطان کے سالانہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں مردوں کے ساتھ ہراسگی اور ہمارا رویہ

دنیا بھر میں اسٹائروفوم (تھرموکول) سے بنے مضر صحت ڈسپوزایبل برتنوں کا استعمال ممنوع ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ڈسپوزیبل کپس اور پلیٹس پر پابندی عائد کرچکی ہے جس کے باوجود بھی ان کپس اور ڈبوں کی سرعام فروخت اور استعمال جاری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق تھرماکول کی بجائے پولی پروپلین یا کاغذ اور گتے کے برتنوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نیوز 360 کی اس معاملے پر ڈیجیٹل ویڈیو بھی بنائی ہے۔

Facebook Comments