لاڑکانہ کے بچوں میں ایڈز کیوں پھیل رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں 48 بچے ایڈز کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں بچوں میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز نے دنیا کو اپنی جانب متوجہ کردیا ہے۔ لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس ( ایچ آئی وی) کے باعث بچے تیزی سے ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنسی سنڈروم ( ایڈز) کا شکار ہورہے ہیں۔ 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے میگزین میں شائع ہونے والی تفصیلی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ کہنے کو تو صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے لیکن سہولتوں کے اعتبار سے اب بھی ملک کا ایک پسماندہ شہر ہے۔ بھٹو خاندان کے متوالے لاڑکانہ کے شہریوں نے تو بھٹو خاندان کو بہت کچھ دیا ہے لیکن کھیل ہو یا تعلیم، امن و امان یا صحت، یہاں ہر شعبے کی حالت دگرگوں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسین ہے نہیں لیکن ساؤتھ سٹی نے لگانے کی قیمت مقرر کر لی

برسوں سے لاڑکانہ کی حالت حکمرانوں کی بے حسی کی کہانی سنا رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے شہر میں 13 سال تک کی عمر کے 1132 بچوں کے ایڈز کا شکار ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں 48 بچے ایڈز کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ بچوں کے علاوہ 408 پختہ عمر کے افراد میں بھی ایچ آئی وی پازیٹیو کی تشخیض ہوئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے غلط اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 21 فیصد افراد ایسے ہیں جو اپنی بیماری یعنی ایڈز کے بارے میں علم و آگاہی رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایڈز کے آگاہی پروگرام یو این ایڈز کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ 90 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں جن میں سے صرف 12 فیصد کو علاج کی سہولت میسر ہے۔

لاڑکانہ میں بچوں میں ایڈز پائے جانے کی حقیقت اس وقت کھلی جب 2019 میں ڈاکٹر عمران اربانی نے رتو ڈیرہ کے علاقے سے دو بچوں کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا۔ انہیں اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب دونوں بچوں کے والدین کا ایچ آئی وی ٹیسٹ منفی آیا۔ جس کے بعد ڈاکٹر اربانی مقامی صحافیوں کی مدد سے علاقے میں موجود دیگر کیسز کو سامنے لائے۔ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد بات اس قدر بڑھ گئی کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے علاقے کی صورتحال کو ہنگامی قرار دے دیا۔

واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے ماہرین کی ٹیم کو علاقے میں بھیجا۔ ٹیم نے تحقیق کے بعد اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ان تمام کیسز کے پیچھے مبینہ طور پر مقامی معالج مظفر گھانگرو کا ہاتھ تھا۔ ایڈز کا شکار ڈاکٹر مظفر گھانگرو پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علاقے کے بچوں کو انجکشن کے ذریعے ایڈز میں مبتلا کیا تاہم یہ بات اب تک عدالت میں ثابت نہیں کی جاسکی ہے۔

کراچی کے آغا خان اسپتال میں ایچ آئی وی کلینک کی سربراہ فاطمہ میر کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے مئی 2019 میں رتوڈیرو کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ علاقے میں ایڈز سینٹر قائم کرنے کے لیے بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں تھیں۔ صحت عامہ کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا۔ سینٹر میں ورکرز کی بہت کم تعداد موجود تھی، تنخواہ سے محروم اسٹاف مایوسی کا شکار تھا۔ ان حالات میں کام کرنا نہایت مشکل تھا جبکہ ورکرز کو کامیابی کا صلہ بھی دور دور تک ملتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

نیویارک ٹائمز میگزین کی اس رپورٹ کے اختتامیے میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نہ صرف انہیں ایڈز کے کیسز کی درست گنتی رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ معلوم کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ وائرس کہاں اور کیسے گردش کررہا ہے۔ اس اقدام سے ایڈز کے کیسز کو مذید بڑھنے سے روکا جاسکے گا۔

Facebook Comments Box