خاتون ڈاکٹر کا میل نرس پر تشدد

ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ نے وزیرِ صحت سے تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ڈاؤ انٹرنیشنل ڈینٹل کالج اینڈ ہوسپٹل میں خاتون ڈاکٹر اور سکیورٹی گارڈ نے میل نرس کو تشدد کرکے زخمی کردیا ہے۔

کراچی میں واقع ڈاؤ انٹرنیشنل ڈینٹل کالج اینڈ ہوسپٹل میں خاتون اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر انیلا سولنگی نے میل نرس سے سوال کیا کہ اُن کی میز پر سامان کس نے رکھا ہے؟ میل نرس نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، جس پر اسسٹنٹ ڈی ایچ او نے انہیں گالیاں دیں۔

اسسٹنٹ ڈی ایچ او ڈاکٹر انیلا سولنگی نے گالیوں کے بعد میل نرس پر تشدد کیا اور اُسی دوران اسپتال کے سکیورٹی گارڈ نے بھی میل نرس کو تھپڑ اور گھونسے مارے جس سے اُن کے چہرے پر زخم آگئے۔ اس واقعے کی ویڈیو ایک قریبی کھڑے ہوئے شخص نے بنالی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

خیبرپختونخوا میں کرونا کی وباء سے 51 ڈاکٹرز کا انتقال

ویڈیو وائرل ہونے پر ڈاؤ ڈینٹل کالج اینڈ ہوسپٹل کی نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے درمیان اشتعال پھیل گیا ہے۔ ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ نے وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور سیکریٹری صحت ڈاکٹر سکندر میمن سے واقعے کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نرسز کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر انیلا کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور کسی بھی افسر کو ذاتی ملازمین یا سکیورٹی گارڈز کو ادارے کے احاطے میں لانے پر مکمل طور پر پابندی لگائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

اس واقعے رد عمل معلوم کرنے کے لیے جب نیوز 360 نے اسسٹنٹ ڈی ایچ او ڈاکٹر انیلا سولنگی سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اسپتال کے عملے کو انجیکشنز اور کچرا فرش پر پھینکے سے منع کیا تھا جس پر عملے نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور سکیورٹی گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں سکیورٹی گارڈ کے کپڑے بھی پھٹ گئے تھے۔

اسسٹنٹ ڈی ایچ او ڈاکٹر انیلا سولنگی کا کہنا تھا کہ اسپتال کے میڈیکل افسر نے بیچ بچاؤ کرانے والے گارڈ پر این سی (نا قابل دست انداز ی پولیس جرم) کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ عملے کی جانب سے تشدد کی شکایت اعلیٰ حکام سے کی تھی لیکن وہاں سے بھی انصاف نہیں ملا ہے۔

Facebook Comments Box