وزارت صحت کی کرونا ویکسین سے موت کی تردید

وفاقی وزارت صحت نے ویکسین سے موت کی خبر کو من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

وفاقی وزارت صحت نے کرونا ویکسین لگانے والوں کی 2 سال میں موت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔

کرونا کی وبا نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے لیکن پاکستان میں اب بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک افواہ زیر گردش تھی کہ بقول فرانسیسی نوبل انعام یافتہ سائنسدان کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے والے افراد کی 2 سال کے عرصے میں موت ہوجائے گی۔ حیران کن طور پر تصدیق کے بغیر ہی یہ خبر چند اخبارات کی زینت بھی بنی۔ اخبار کی تصویر واٹس ایپ پر بھی تیزی سے شیئر کی جانے لگی اور معاملہ سنگین ہوگیا۔

ویکسین کرونا

یہ بھی پڑھیے

چین کی ویکسین پر امریکی سائنسدانوں کا اعتماد

سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس اور یوٹیوب پر خبر کے بے بنیاد ہونے کی وضاحتیں پیش کی گئیں اور کہا گیا کہ کسی سائنسدان نے بھی اپنے انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔

وفاقی وزارت صحت نے بھی اب خبر کو من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے وزارت نے خبر کے جعلی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت صحت کے مطابق تمام ویکسین تحقیق اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر کر عوام تک پہنچتی ہیں۔ کوئی تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ ویکسین لگوانے سے دو سال بعد موت واقعہ ہو سکتی ہے۔

وزارت صحت نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی اب شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کی جھوٹی اور بے بنیاد خبروں پر یقین کرنے کے بجائے جلد سے جلد کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں تاکہ خود کو اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو کرونا سے محفوظ بناسکیں۔

متعلقہ تحاریر