گیلپ سروے پاکستانیوں کی ویکسین سے ہچکچاہٹ کی وجوہات سامنے لے آیا

26 فیصد عوام نے کرونا ویکسین نہ لگانے کی وجوہات میں مذہبی عقائد کا حوالہ دیا ہے۔

کرونا کی وبا نے پہلے دنیا بھر کو ڈرایا اب لوگ اس سے بچاؤ کی ویکسین سے بھی خوف کھارہے ہیں۔ پاکستان میں 42 فیصد عوام ویکسین کے مضر اثرات کو لے کر پریشان ہیں۔ گیلپ پاکستان نے کرونا ویکسین کے حوالے سے کیے جانے والے سروے کے نتائج جاری کردیئے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کرونا وبا کے برھتے کیسز کے باعث پریشان ہے لیکن عوام کی بڑی تعداد کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے پریشان ہے۔ گیلپ پاکستان کے سروے میں پاکستانیوں نے ویکسین لگانے سے ہچکچاہٹ کی وجوہات بیان کردیں۔

عوام سے جب کرونا ویکسین کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو 42 فیصد عوام نے کہا کہ وہ کرونا سے خوفزدہ ہی نہیں ہیں۔42 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ ویکسین سے بہتر قدرتی طور پر پیدا ہونے والی قوت مدافعت ہے جبکہ 42 فیصد عوام ویکسین کے مضر اثرات کو لے کر پریشان ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت صحت کی کرونا ویکسین سے موت کی تردید

سروے میں ملک کی 38 فیصد عوام نے کہا کہ کرونا تشویشناک مرض نہیں ہے۔

گیلپ سروے میں 35 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین نہیں لگائیں گے کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ ویکسین کرونا سے موثر تحفظ فراہم کرے گی۔

ملک میں موجود 33 فیصد پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ ویکسین جلد بازی میں تیار کی گئی ہے اور اسے اچھی طرح سے ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے۔

26 فیصد عوام نے کرونا ویکسین نہ لگانے کی وجوہات میں مذہبی عقائد کا حوالہ دیا ہے۔

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کررہی تھیں کہ کرونا ویکسین لگانے والوں کی 2 سال میں موت واقعہ ہوجائے گی۔ خبر نے لوگوں کے ویکسین کو لے کر عدم اعتماد میں اضافہ کیا۔ آخر کار وفاقی وزارت صحت کو وضاحت دینی پڑی کہ تمام ویکسین تحقیق اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر کر عام عوام تک پہنچتی ہیں اور کوئی سائنسی تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کے ویکسین لگوانے سے دو سال بعد موت ہوسکتی ہے۔

عوام کی ویکسین کو لے کر ہچکچاہٹ میں کمی نہ آئی تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں کرونا وبا پر قابو پانا پاکستان کے لیے مشکل ترین عمل بن جائے گا۔

متعلقہ تحاریر