سول اسپتال لاڑکانہ میں پانی کی عدم فراہمی کا مسئلہ درپیش

اسپتال میں 20 روز سے پانی کی موٹر خراب ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں سول اسپتال کی حالت زار انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسپتال میں صفائی کا کوئی انتظام موجود نہیں جبکہ پانی کی عدم فراہمی کے باعث مریضوں اور تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سندھ حکومت کا لاڑکانہ کو پیرس بنانے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ سرکاری اسپتال آنے والی مجبور اور غریب عوام کو سندھ سرکار نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ صحت کے شعبے میں اپنی کارکردگی پر فخر کرنے والی پیپلز پارٹی کو لاڑکانہ کے سول اسپتال پر نظر کرم کرنے کی ضرورت ہے۔

سول اسپتال لاڑکانہ کی خستہ خالی انتظامیہ کی لاپرواہی کو واضح طور پر بیان کررہی ہے۔ اسپتال میں صفائی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ ہر طرف پھیلی گندگی نے مریضوں سمیت تیمارداروں کو بھی پریشان کردیا ہے۔ پانی کی عدم فراہمی کے باعث اسپتال کے بیت الخلاء کی ابتر حالت ہے۔ اسپتال میں 20 روز سے پانی کی موٹر خراب ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تیماردار پانی کے لیے مساجد کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حکومتی عدم توجہی کے باعث صحت کا شعبہ ابتری کا شکار

جے یو آئی کے رہنما مولانا راشد محمود نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں صحت کے شعبے کا حال امریکا سے بھی بہتر ہے۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بلاول بھٹو کو پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے لاڑکانہ کے سول اسپتال کا منظر دیکھنا چاہیے۔

مولانا راشد محمود نے اسپتال میں پانی کی عدم فراہمی کے مسئلے پر آواز اٹھائی اور سندھ حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ وفاق سے پانی لینے کا احتجاج بعد میں کریں، پہلے لاڑکانہ کے اسپتالوں کو پانی فراہم کریں۔

متعلقہ تحاریر