کرونا کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی کا عالمی اعتراف

دی اکنامسٹ کی اس رپورٹ کے مطابق نارمل زندگی کی طرف لوٹنے والے ممالک میں انڈیا 48ویں نمبر پر موجود ہے۔

کرونا وائرس کے دوران بہترین اقدامات کے باعث نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ دی اکنامسٹ کی اس رپورٹ میں چین کو 19ویں، آمریکا کو 20، برطانیہ کو 36ویں جبکہ بھارت کو 48 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس فہرست میں ملائیشیا کو کورونا وائرس کی خراب صورتحال پر آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔

عالمی معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والے برطانوی جریدے دی اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے کرونا صورتحال کے بعد نارمل زندگی کی طرف لوٹنے والے ممالک میں ھانگ کانگ پہلے، نیوزی لینڈ دوسرے جبکہ پاکستان تیسرے نمبر پر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں ترقی کرپشن سے ممکن ہوئی،ریماعمر کامضحکہ خیز دعویٰ

جریدے کی یہ رپورٹ کرونا وائرس کی وبا کی دوران زندگی کے 8 مختلف شعبوں کی بحالی پر مبنی ہے جس میں کھیلوں کے میدانوں میں عوام کی موجودگی، گھر پر بہتر وقت گزارنا، سڑکوں پر ٹریفک کی روانگی، دفاتر میں لوگوں کی موجودگی، پروازوں، ٹرانسپورٹ کی بحالی اور فلم باکس آفس کی بحالی شامل ہیں۔

پاکستان عالمی فہرست

دی اکنامسٹ کی یہ رپورٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پاکستان میں کرونا صورتحال کے دوران بہتر اقدامات کا ہی نتیجہ ہے۔

کرونا وائرس کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے نام سے ایک ادارا قائم کیا گیا جو کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال پر نظر رکھے ہوا ہے۔ این سی او سی کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے، ملک میں بروقت ویکسی نیشن کی فراہمی سمیت دیگر اقدامات سے ہی معمول کی زندگی میں بحالی ممکن ہوئی ہے، اور اسی وجہ سے ہی عالمی اداروں کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی تعریف کی جارہی ہے۔

پاکستان میں اس وقت کرونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد ساڑھے 32 ہزار سے زائد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ابھی صرف 10 فیصد تک لوگوں نے ویکسین کی خوراک حاصل کی جن میں اکثریت نے ویکسین کی دوسری خوراک ابھی حاصل نہیں کی ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے عوام میں ویکسی نیشن کے بارے میں آگاہی کے لیے بھی بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں جس سے یقیناً ملک میں کرونا وائرس پر قابو پانے میں مدد ملنے کے ساتھ ہم مزید بہتر طریقے سے نارمل زندگی کی طرف واپس آئیں گے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کارکردگی کے برعکس پاکستانی عوام نے وفاقی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی ہدایات کے مطابق کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر اس طرح سے عمل نہیں کیا جیسے کرنا چاہیے تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق ابھی تک ملک بھر میں 33 لاکھ 60 ہزار 490 افراد نے ویکسین کی 2 خوراکیں حاصل کی ہے جبکہ ایک کروڑ 40 لاکھ 26 ہزار 856 افراد نے صرف ویکسین کی ایک خوراک حاصل کی ہے۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے حکومت مختلف ممالک سے ویکسین درآمد کررہا ہے تاہم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے بھی مقامی سطح پر کووڈ -19 کی ویکسین کی تیاری شروع کردی ہے، اور توقع ہے کہ رواں ماہ سے ماہانہ 30 لاکھ خوراکیں تیار ہونا شروع ہو جائیں گی۔

متعلقہ تحاریر