وگن کے اسپتال میں مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

رورل ہیلتھ سینٹر کی مرمت کا کام 25 سال میں کبھی نہیں ہوا۔

لاڑکانہ کے حدود میں آنے والے چھوٹے سے شہر وگن میں محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حیران کن طور پر 25 سالوں میں رورل ہیلتھ سینٹر کی مرمت کا کام کبھی نہیں ہوا جس کی وجہ سے اسپتال کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔ ملازمین اور مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سندھ میں محکمہ صحت میں بہتری کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ لاڑکانہ کے حدود میں آنے والے چھوٹے سے شہر وگن کی آبادی محض 70 ہزار ہے لیکن افسوس صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سن 1995 میں وگن میں رورل ہیلتھ سینٹر بنایا گیا لیکن 25 سال گزر جانے کے باوجود اسپتال کی مرمت کا کام نہ ہوا، جس کی وجہ سے اسپتال کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔ اسپتال میں ڈیوٹی کرنے والے ملازمین اور مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ محکمہ صحت نے اپنی آنکھیں ہی بند کرلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ناصر حسین شاہ کے شہر سکھر میں گندگی کے ڈھیر

مریضوں کا کہنا ہے کہ بیماری کا علاج کرانے یہاں آتے ہیں تو عمارت کی حالت دیکھ کر بیماری میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ مریضوں نے رورل ہیلتھ سینٹر کی عمارت کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اس کی مرمت کرانے کی درخواست کی ہے تاکہ مستقبل میں یہاں آنے والے مریضوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں نہ کہ ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں۔

واضح رہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر کی ایمرجنسی 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے اور یہ اسپتال ضلعی ہیڈ کواٹر کے سب سے بڑے اسپتال کے طور پر جانا جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر