کرونا ویکسینیشن میں غیرسنجیدگی، حالات بگڑنے کا خدشہ

اسد عمر کے مطابق ملک میں 50 سال سے زائد عمر کے 20 فیصد افراد نے ہی ویکسین لگوائی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے خدشات کے باوجود عوام نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جس سے ایک مرتبہ پھر حالات لاک ڈاؤن کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔

پاکستان میں این سی او سی کی بروقت ہدایات اور حکومت کے بہترین اقدامات سے ملک میں کرونا وائرس کی تیسری لہر قابو میں رہی لیکن اس مہلک وائرس کی بھارتی قسم ڈیلٹا کے کیسز پاکستان میں بڑھنے سے حالات دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد میں بھارتی وائرس کے کیسز بڑھنے پر انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ این سی او سی نے سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے اور ویکسینیشن نہ کروانے پر ملک بھر میں دوبارہ کیسز کی شرح بڑھنے کا عندیہ دیا ہے۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں وائرس سے 15 افراد انتقال کرگئے اور 1808 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ مجموعی طور پر کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 9 لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک میں اس وقت کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.84 فیصد ہے۔ پاکستان میں 9 لاکھ 13 ہزار مریضوں کی صحتیابی کے بعد فعال کیسز کی تعداد 38 ہزار 622 ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ملک میں کرونا کی چوتھی لہر آگئی؟

این سی او سی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی مزید 4 لاکھ 46 ہزار 391 خوراکیں پہنچادی گئی ہیں۔ اب تک صرف 2 کروڑ افراد نے ویکسین کے لیے رجسٹر کروایا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 2 کروڑ 72 لاکھ ہے۔ ان میں سے صرف 56 لاکھ افراد نے ویکسینیشن کروائی ہے۔ سربراہ این سی او سی کے مطابق 50 سال یا اس سے زائد عمر میں کرونا کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہے لیکن ان میں سے صرف 20.6 فیصد آبادی نے ویکسین لگوائی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ بڑی عمر کے افراد کو کرونا ویکسین لگوانے کے لیے آمادہ کرنا ہوگا، انکی حوصلہ افزائی سے ہی ہم اپنا ٹارگٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ ملک میں ویکسین کی مزید خوارکیں پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگ خود کو ویکسین کے لیے رجسٹر کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے اور ویکسینیشن کی دوری سے ہمیں ایک بار پھر کرونا کی لہر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Facebook Comments Box