کرونا ویکسین سے متعلق حکومتی دعوؤں کا پول کھل گیا

کرکٹر جنید خان کے مطابق صوابی، مردان اور بونیر کے اسپتالوں میں کرونا ویکسین موجود نہیں ہے۔

وفاقی حکومت نے سیاحت کے لیے شمالی علاقہ جات کی طرف جانے والے شہریوں کی ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ جس پر کرکٹر جنید خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے کرونا ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ملک بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے سیاحت کے لیے خیبرپختونخوا اور گلگت کی طرف جانے والے شہریوں کو ویکسینیشن لگوانے کی ہدایت تو کردی لیکن سیاحوں کی جانب سے کرونا ویکسین کی عدم فراہمی سے متعلق خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر جنید خان ان دنوں شمالی علاقہ جات کی سیر پر ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزرا کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی عہدیداروں کا سیاحوں کی ویکسینیشن سے متعلق بیان ایک مذاق ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جنید خان نے اسد عمر، اسپیکر اسد قیصر اور خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام ترکئی کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ویکسین کو لازمی قرار دینے سے قبل اس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

انگلینڈ کے 7 کرکٹرز کرونا وائرس میں مبتلا

جنید خان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس وقت صوابی، مردان اور بونیر کے اسپتالوں میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین موجود نہیں ہے۔ جن لوگوں نے ویکسین کی پہلی خوراک لگوائی تھی ان کو بھی کافی وقت گزرنے کے باوجود دوسری خوراک نہیں لگ سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اسپتالوں میں ویکسین ہی موجود نہیں ہوگی تو مقامی افراد اور سیاح کہاں سے ویکسین لگوائیں گے۔ حکومت کو پہلے ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کرنے ہوں گے۔

واضح رہے کہ حکومتی وزرا نے کچھ عرصہ قبل اپنے بیانات میں کہا تھا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیاحوں کی ویکسینیشن کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments Box