مفت کرونا ویکسین کی فروخت کا انکشاف

پولیس نے چھاپا مار کر سائنو فام، کنسائنو اور سائنو ویک کی 513 خالی شیشیاں برآمد کرلیں۔

کراچی میں رقم لے کر شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے اسکینڈل میں مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ 2 گرفتار ملزمان نے کرونا ویکسین کی فروخت کے معاملے میں کرپٹ سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کی نشاندہی کردی۔ پولیس نے انہیں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

حکومت کی جانب سے شہریوں کو لگائی جانے والی مفت کرونا ویکسین کی کراچی میں مبینہ فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے ہونے والے جرم کی کہانی سامنے آگئی۔

کراچی میں بھاری رقم کے عوض گھر گھر جا کر کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے والے 2 ملزمان کو 25 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہی کی نشاندہی پر ساؤتھ زون پولیس نے ڈیفنس فیز ٹو میں ہیلتھ سروسز فراہم کرنے والی نجی کمپنی پر چھاپا مارا اور سائنو فام، کنسائنو اور سائنو ویک کی 513 خالی شیشیاں برآمد کرلیں۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کی جانب سے 60 افراد کو فائزر ویکسین  لگائی گئی جس کے دستاویزات ملے ہیں۔ ان دستاویزات کو کیس پراپرٹی بنالیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عیدالاضحیٰ اور کرونا ڈیلٹا ویرینٹ، کراچی والے ہوشیار ہو جائیں

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کو ویکسین ڈی ایچ او ایسٹ کے دفتر سے فراہم کی جارہی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سرکاری کرونا ویکسین فراہم کرنے والے 3 افراد کے نام بھی بتادیئے ہیں۔ ملزمان کی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے والی کمپنی 2018 سے کام کر رہی ہے جبکہ گرفتار افراد رواں سال اپریل سے کرونا ویکسین کے ذریعے پیسے کمارہے تھے۔

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ نے بھی معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوارڈینیٹر فیاض حسین عباسی کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائے گی۔ عدالت نے گرفتار ملزمان کو 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

Facebook Comments Box