بلاول بھٹو کا آبائی شہر رتوڈیرو ایچ آئی وی کا گڑھ

چیئرمین پیپلز پارٹی کے حلقے میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران 1550 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے حلقے اور آبائی شہر رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اسی شہر سے منتخب ہوکر پہلے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان بنی تھیں۔

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کا سب سے پہلا کیس فروری 2019 میں سامنے آیا تھا۔ نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے ایچ آئی وی کے ماہر ڈاکٹر عمران اکبر عاربانی نے بتایا کہ 22 فروری 2019 کو ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا جب اس کا معائنہ کیا گیا تو انہیں اس میں ایچ آئی وی کی علامات محسوس ہوئیں جس پر بچے کے والدین کو ایچ آئی وی ٹیسٹ کا مشورہ دیا، جس کا نتیجہ مثبت آیا۔ یوں دو ماہ کے قلیل عرصے میں 20 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

24 مارچ 2019 میں ایچ آئی وی کی متاثرہ بچی کی ہلاکت کے بعد معاملہ عالمی میڈیا پر اٹھایا گیا۔ اس واقعے کے بعد تقریباً 30 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی تو 900 مریضوں کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ 1 دسمبر 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق رتوڈیرو میں 1540 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوچکی ہے، مگر حکومتی سطح پر اسے  روکنے کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا اگلے چھ ماہ میں پورے پاکستان کو کرونا ویکسین لگ جائے گی؟

ڈاکٹر عمران اکبر عاربانی کا کہنا ہے کہ رتوڈیرو میں ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال ہونا شامل ہے۔ سندھ حکومت کو اس عمل کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، اور عطائی ڈاکٹروں کو کام سے روکنا ہوگا۔

نیوز 360 نے ایچ آٸي وی سے متاثرہ افراد کے علاج، ادویات، ٹیسٹ اور دیگر معاملات پر بات کرنے کےلیے ٹریٹمينٹ سپورٹ سینٹر رتوڈیرو کی انچارج ڈاکٹر شاہدہ حفیظ میمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ انہیں اعلیٰ حکام نے میڈیا سے بات کرنے سے منع کررکھا ہے۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے ایچ آئی وی سے متاثرہ دو بچیوں کے نانا کا کہنا تھا کہ جب ہم بچیوں کا علاج کرنے کے لیے ٹریٹمنٹ سینٹر لے جاتے ہیں تو ہماری تذلیل کی جاتی ہے۔

شاہ میر رند نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان  کی تین کزنز اس مرض میں مبتلا ہیں مگر ٹریٹمنٹ سینٹر میں علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رتوڈیرو بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا آبائی شہر ہے، ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بچے بچیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

Facebook Comments Box