کے پی کے میں غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کا دھندہ عروج پر

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق گھناؤنے کاروبار کے خاتمے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

خیبر پختون خوا (کے پی کے) میں غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ محکمہ صحت نے جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمے کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

محکمہ صحت کے پی کے کے ذرائع کے مطابق مارکیٹس اور دکانوں پر غیر معیاری ادویات کے کاروبار میں کئی فیصد اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اس حوالے سے حکام بھی میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خیبر پختونخوا میں ڈینگی مچھر بے قابو، 62 مریضوں میں وائرس کی تصدیق

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے غیر معیاری ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق مارکیٹس میں موجود ادویات پر نظر رکھنے کے لیے 4 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی صوبہ بھر میں ادویات کے معیار اور قیمت پر نظر رکھے گی۔

محکمہ صحت کی دستاویزات  کے مطابق خصوصی کمیٹی 3 ماہ تک صوبے بھر میں موجود مارکیٹس اور دکانوں کی نگرانی کرے گی، اور غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویات فروخت کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کرے گی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی ہر 15 روز کے بعد اپنی کارروائیوں اور جرمانوں سے متعلق رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی جان سب سے قیمتی شے ہے مگر کچھ دولت کے پجاری اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں ان کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت پیسے کی ہوتی ہے۔ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہےکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ان معاشرے کے ناسوروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صحت کا شعبہ مسیحت سے جوڑا ہوا شعبہ سمجھا جاتا ہے مگر غیر معیاری ادویات کی فروخت اور عطائی ڈاکٹرز کی بھرمار نے اس کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو غیرمعیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں عمل میں لائیں تاکہ اس دھندے کا قلع قمع کیا جاسکے۔

Facebook Comments Box