کرونا سے بچاؤ کی گولی ایجاد، ٹرائل جاری

تجربے میں دوا کے استعمال سے بالغ افراد میں  وائرس  کے پھیلاؤ  کی روک تھام کا مطالعہ کیا جائے گا۔

عالمی دوا ساز اداروں میں کرونا وبا کے علاج کی دریافت کے لیے مقابلہ جاری ہے۔  امریکی دوا ساز اداروں فائزر اور مرک نے کرونا کے علاج کے لیے  تیا ر کردہ  اپنی دواؤں  کے نئے تجربات  کااعلان کردیا ہے ۔

فائزر کمپنی کا کہنا ہے کہ درمیانی اور آخری مدت کے نئے ٹرائلز کے  لیے کرونا سے معمولی متاثرہ  1140  مریضوں نے اپنا اندراج کروایا ہے۔  مریضوں کو تجربے کے دوران  فائزر کی تیار کردہ گولی کے ساتھ ایچ آئی وی انفیکشن کے علاج میں استعمال ہونے والی ریٹونا ویر دوا بھی  دی جائے گی۔

یہ  بھی  پڑھیے

ویکسین لگوائیں ورنہ بنیادی سہولیات سے محروم ہوجائیں

فائزر کی دوا  اس اہم انزائم کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہے جو جسم  میں کرونا وائرس کو ضرب دینے کی وجہ سے بنتا ہے۔ دوسری جانب مرک کا کہنا ہے کہ اس کی  نئی  دوا مولنوپیراویر  کے  تجربات ایک ہی  گھرانے کے ان  بالغ افراد  پر کیے جائیں گے جو  کرونا  کا  شکار  ہوں  گے، اور دیکھا  جائے  گا  کہ  یہ  دوا  خاندان  کے  دوسرے  افراد  کو  کرونا  سے  بچانے  میں  کس  حد  تک  معاون  ثابت  ہوتی  ہے۔

اس تجربے میں دوا کے استعمال سے بالغ افراد میں  وائرس  کے پھیلاؤ  کی روک تھام کا مطالعہ کیا جائے گا۔ مرک  اور اس  کی شراکت دار کمپنی  رجبیک بائیوتھراپیوٹکس  پہلے ہی کرونا سے معمولی متاثرہ مریضوں  پرمولنوپیرا ویر دوا  کے تجربات کررہے ہیں۔

ان تجربات  کا مقصد یہ ہے کہ دوا مریضوں کو اسپتال  جانے اور موت سے بچانے میں کس حد تک کامیاب ہورہی ہے۔

Facebook Comments Box