ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے ہاتھوں محکمہ صحت کا مبینہ رشوت خور اہلکار بے نقاب

دلاور جسکانی ہمارے کلینک میں داخل ہوا اور فارمیسی میں گھس کر ایک گھنٹے تک عملے کو دھمکاتا اور رشوت مانگتا رہا، قریبی فارمیسی سے 15 لاکھ رشوت وصول کرچکا ہے، ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا وزیر صحت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے محکمہ صحت کے مبینہ رشوت خور اہلکار کو بے نقاب کردیا۔

خاتون ڈاکٹر کاکہنا ہے مذکورہ شخص ان کے کلینک میں آدھمکا اور اپنی شناخت ظاہر کیے بغیرایک گھنٹے تک عملے کو دھمکاتا اور رشوت مانگتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور، اسلام آباد سمیت7 شہروں میں پولیو وائرس کی تصدیق

امریکا میں ملازمت کرنیوالے پاکستانی ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو  اور محکمہ صحت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ صاحب دلاور جسکانی ہیں ، جو آج ہماری انڈور فارمیس میں گھس گئے، اسپتال کی انتظامیہ کےمانگنے پر بھی اپنی شخصیت کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ صاحب گھنٹہ بھر فارمیسی کو اندر سے بند کرکے بیٹھے رہے اور سٹاف کو دھمکاتے رہے،رشوت مانگتے رہے۔خاتون ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ معاملے کا علم ہونے پر وہ گئیں تو مذکورہ شخص نے انہیں باہرجانے کو کہاجس پر وہ  اس شخص کو گریبان سے پکڑ کر سامنے واقع سمن آباد تھانے لے گئیں اور اس کیخلاف رپورٹ  لکھوائی۔

ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے سیکریٹری صحت ذوالفقار شاہ کو بھی واٹس ایپ پر شکایت کی کیونکہ انہوں نے مصروفیت کے باعث کال وصول نہیں کی تھی

ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے الزام عائد کیا کہ یہ دلاور جسکانی مشہور بدمعاشی میں مشہور ہیں ، حال ہی میں انہون نے ایک قریبی  فارمیسی کو سیل  کیااور 15لاکھ روپے  رشوت  لے کر اسے کھولنے کی اجازت دی۔

انہوں نے کہاکہ اگر ہم اس طرح کے رشوت خوروں کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یہ معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے اپنے حوالے سے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دیکھیے اب میرے خلاف کیا قدم اٹھا تا ہے۔

Facebook Comments Box