کراچی میں کمپنی کے گودام پر چھاپہ، پیناڈول کی ذخیرہ شدہ 4کروڑ 80لاکھ گولیاں برآمد

گودام گلیکسو اسمتھ کلائن کی ملکیت ہے،25کروڑ روپے مالیت کی دوا کو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کے لیے ذخیرہ کیا گیاتھا، محکمہ صحت سندھ: دوا کو ملک بھر میں ترسیل کیلیے رکھا گیا تھا، کمپنی نے حکومتی الزام سختی سے مسترد کردیا

 محکمہ صحت سندھ نے کراچی کے علاقے ہاکس بے میں دوا ساز کمپنی کےگودام پر چھاپہ مار  کر پیناڈول کی ذخیرہ کی گئی 4کروڑ 80 لاکھ گولیاں ضبط کرلیں۔

صوبائی ڈرگ انسپکٹر دلاور علی جسکانی نے انگریزی روزنامہ ڈان  کو بتایا کہ گودام گلیکسو اسمتھ کلائن کنزیومر ہیلتھ کیئر لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی میڈیسن مارکیٹ پر چھاپہ، پیناڈول کی ڈھائی لاکھ گولیاں برآمد

حکومتی نااہلی کے باعث ملک بھر میں عام استعمال کی دوا پیناڈول کی قلت

انہوں نے الزام لگایا کہ پکڑی گئی دوا کو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے ذخیرہ کیا گیاتھا، ضبط کی گئی گولیوں کی قیمت کا تخمینہ 25  کروڑ روپے ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نےاپنے ٹوئٹ کے ذریعے اسے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب یہ دوا  مریضوں کیلیے ضروری تھی تو اسے ذخیرہ کیا جارہا تھا، انتظامیہ نے بہترین جارحانہ کارروائی کامظاہرہ کیا ہے،مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

پیناڈول کی گولی گلیکسواسمتھ کلائن تیاکرتی ہے  جس کا فارمولا پیراسیٹامول ہے، یہ ایک جراثیم کش دوا ہے جو اکثر بخار اوردرد میں کارگر ثابت ہوتی ہے ۔ خاص طور پر سیلاب اور ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسزکی وجہ سے دوا کی طلب   میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔

 دریں اثنا دوا ساز کمپنی  گلیکسو اسمتھ کلائن نے اپنے گودام پر چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے پیناڈول کو ذخیرہ کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ”ہم قلت پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ کر پیناڈول کو ذخیرہ کرنے سے متعلق دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں،“کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ گودام میں موجود اسٹاک ملک بھر  میں ترسیل کیلیے رکھاگیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی  کے قیام کا مقصد انسانیت کو روزمرہ کی صحت کی فراہمی   تھا،اور یہ مقصد ہر مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہماری وابستگی سے ظاہر ہوا ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ ،”ہم نے ملک میں پیناڈول مصنوعات کی فراہمی جاری رکھی ہے اور مارکیٹ میں رکاوٹوں کے باوجود کچھ مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پیداواری صلاحیت میں رد و بدل کیا ہے۔“

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات عبدالقادر پٹیل نے دوا ساز کمپنیوں پر پیراسیٹامول   کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا ۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ  کمپنیوں  کا بلیک میلنگ کا کوئی بھی  حربہ ان پر کارگر ثابت نہیں ہوگا۔

 دوسری جانب پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے کہا ہے کہ ادویات کی قلت پیداواری لاگت میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے ہوئی ہے۔واضح رہے کہ ایک روز قبل ڈریپ نے کراچی کی میڈیسن میں مارکیٹ میں گودام پر چھاپہ مار کر پیناڈول کی ڈھائی لاکھ گولیاں ضبط کی تھیں۔

متعلقہ تحاریر