کینیڈین ہائی کمشنر نے چترال کو ‘جنت کا حصہ’ قرار دے دیا

وینڈی گلمر کا کہنا ہے کہ چترال کی عوام اور انتظامیہ کی مہمان نوازی ایک پرلطف تجربہ تھا۔

پاکستان میں کینیڈین خاتون ہائی کمشنر وینڈی گلمر کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے چترال میں گزارا ہوا ایک ہفتہ ان کی زندگی کا بہترین وقت تھا۔ اُن کے مطابق ’چترال کی سیاحتی انتظامیہ کے بہترین کام پر ان مداح ہوگئی ہوں۔‘ وینڈی گلمر نے اپنے پیغام میں چترال کو خوبصورت پاکستان سے تشبیہ دی ہے۔

کینیڈین ہائی کمشنر وینڈی گلمر نے اپنے ایک تازہ ٹوئٹ میں چترالی عوام اور انتظامیہ کی جانب سے بہترین مہمان نوازی پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنے پیغام میں ہائی کمشنر نے کہا کہ ‘سخت سردی کے موسم میں چترال کے پہاڑ پر لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ ہاکی کھیل کر انہیں بہت خوشی محسوس ہوئی۔’

اُن کا کہنا ہے کہ چترال میں سردی کا موسم جنت کا نظارہ پیش کررہا تھا اور یہ اُن کے لیے بہت ہی حیران کن تھا۔

کینیڈین ہائی کمشنر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کے ذہن میں تھا کہ چترال کا ماحول خراب ہوگا لیکن ان کا تجربہ اس کے برعکس نکلا۔ یہاں کے سیاحتی ادارے نے ذمہ داری سے تمام ماحول کو خوبصورت بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

چترالی خواتین کے بارے میں وینڈی گلمر کا کہنا ہے کہ ’مجھے خوشی محسوس ہوئی کہ اپر چترال کی خواتین بھی بھرپور جذبے سے مختلف کھیلوں میں حصہ لیتی ہیں اور یہاں خواتین کو گھومنے پھرنے کی مکمل آزادی ہے۔‘

اُنہوں نے چترال میں اپنے سفر کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ ایک تصویر میں وہ چترالی خواتین کے ساتھ ایک پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھی ہوئی مسکرا رہی ہیں۔ دیگر تصاویر میں ہائی کمشنر ہاکی کے کھیل سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ جبکہ ایک تصویر میں وہ مختلف اسکولوں کے بچوں کے درمیان کھڑی ہیں اور چترال میں دی جانے والی تعلیم سے متعلق معلومات حاصل کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مثلِ جنت وادی سوات

ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرنے والے ایک صارف محمد حشام نے چترال میں کھیلوں کی تعریف کرنے پر وینڈی گلمر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ محمد حشام نے لکھا کہ ‘پاکستان اور کینیڈا کے درمیان کھیلوں کو چترال میں فروغ دینے کی یہ ابتدا ہے۔’

ایک صارف نے ٹوئٹ لکھا کہ ‘ہم آپ کو اپر چترال میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔’

ٹوئٹر کے ایک صارف زہرن نے پوچھا کہ ‘کیا آپ پہاڑی بکرے مارخور دیکھنے کے لیے گئی تھیں؟’

متعلقہ تحاریر