کینیڈا کی سپریم کورٹ مذاق کی حد طے کرے گی

مزاحیہ اداکار مائیک وارڈ نے 2010 میں جریمی گیبریئل کی معذوری کا مذاق اڑایا تھا جس پر انہیں عدالت میں طلب کرلیا گیا۔

کینیڈا کی سپریم کورٹ نے مذاق کی حد عبور کرنے والے مزاحیہ اداکار مائیک وارڈ کو پیر کے روز طلب کیا تھا۔ اداکار نے 2010 میں جریمی گیبریئل کی معذوری کا مذاق بناتے ہوئے انہیں بدصورت کہا تھا۔

کامیڈی ایک طویل عرصے سے کسی بھی قوم کے ثقافتی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے اور بعض اوقات معاشرے کی غلطیوں کو بے نقاب بھی کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مذاق کی کوئی حد نہیں ہوتی لیکن معذوروں کے حقوق کے حامی اور کچھ انسانی حقوق کے وکیل یہ دلیل دیتے ہیں کہ مزاح کی بھی حد مقرر ہونی چاہیے۔

کینیڈا کی سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد یہ بحث شروع ہوئی کہ کامیڈین کو مجرم قرار دینے کا آئینی حق ہے یا نہیں؟ کینیڈا کی سپریم کوٹ میں اس سوال پر روشنی ڈالی گئی۔

جریمی گیبریئل نے 8 سال کی عمر میں مونٹریئل کینیڈینز ہاکی کے کھیل میں قومی ترانا گانے کے بعد کیوبک کے لوگوں کا دل جیت لیا تھا۔ اس وقت وہ 24 برس کے ہیں اور سیاسیات کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس مذاق نے ان کی عزت نفس کو تباہ کردیا جبکہ وہ پہلے سے ہی شکست کھا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈونلڈ ٹرمپ کی عمارت منہدم کردی گئی

انہوں نے بتایا کہ مائیک وارڈ کے خلاف شکایات کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔

جریمی گیبریئل نے کہا کہ ‘جب آپ معذوری کا شکار ہوں اور خاص طور پر نوعمری میں تو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب لوگ میری موت کے خیال پر ہنس رہے تھے تو یہ میرے لیے مشکل ہوگیا تھا۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ میری زندگی دوسروں کے مقابلے میں کم ہے۔’

واضح رہے کہ دو مرتبہ ‘کامیڈین آف دی ایئر’ کا ایوارڈ جیتنے والے مائیک وارڈ نے 2010 میں اپنے شو میں کئی مشہور شخصیات کا مذاق اڑایا تھا۔ اس شو کو 2010 سے 2013 کے درمیان سیکڑوں بار دکھایا تھا۔

2012 میں جریمی گیبریئل کے اہلِ خانہ نے کیوبیک کے انسانی حقوق نافذ کرنے والے کمیشن میں شکایت کی تھی جس کے بعد 2016 میں کمیشن نے مائیک وارڈ پر جرمانہ عائد کیا تھا۔

مائیک وارڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مزاح کوئی جرم نہیں ہے۔ تاہم کینیڈا کی سپریم کورٹ کی جانب سے تاحال اس کیس میں کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اِس سارے معاملے کے بعد پاکستان جیسے ملک میں بھی  اِس بات پر غور ہو رہا ہے کہ کیا پاکستان میں بھی اِس قسم کی حد طے کی جاسکے گی؟ پاکستان میں بھی اسٹیج پر اور ٹی وی پروگرامز میں اکثر طنز اور مذاق حد سے آگے برھ جاتا ہے جس کا نتیجہ بعض اوقات تشدد اور کبھی کبھار خود کشی کی شکل میں نکلتا ہے۔

Facebook Comments