خاتون سول سرونٹ طلاق یافتہ خواتین لیے مشعل راہ

مومل کے مطابق سی ایس ایس کی تیاری نے ان کی شخصیت بدل کر رکھ دی۔

خاتون سول سرونٹ نے سوشل میڈیا پر اپنی جدو جہد کی کہانی بیان کردی۔ مومل نے خواتین کو مشکل وقت میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا درس دیا ہے۔

دنیا میں کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہے۔ رشتوں میں اتار چڑھاؤ آنا ایک فطری عمل ہے لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے طلاق کے بعد زندگی بہت مشکل تصور کی جاتی ہے۔ ان کی طرف کی کہانی سنے بغیر مطلقہ خواتین کے گھر، خاندان، کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور انہیں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عام طور پر خواتین گھر بیٹھ کر گمنامی میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور کردی جاتی ہیں۔ لیکن، اب ہمارے سامنے کئی ایسی مثالیں آرہی ہیں جس میں طلاق کے سانحے کے بعد بھی خواتین نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت اور لگن سے مشکلات کا منہ موڑ دیا۔

ایسا ہی کچھ ہوا مومل نامی ایک خاتون کے ساتھ، جنہیں سی ایس ایس نے نئی زندگی کی جانب قدم بڑھانے میں مدد دی۔ مومل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی کہانی سنا کر خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا درس دیا۔

یہ بھی پڑھیے

تنزانیہ میں ماحولیاتی مہم کے لیے نوجوان خواتین متحرک

مومل کے مطابق سی ایس ایس کی تیاری نے نہ صرف انہیں پیشہ ورانہ طور پر مضبوط کیا بلکہ اس کی ان کی شخصیت میں بھی مثبت تبدیلی آئی۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹر پوسٹ میں مزید لکھا کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کی ازدواجی زندگی میں ایسی مشکلات آنا شروع ہوئیں جن کا حل ناممکن تھا۔ تاہم، انہوں نے 2 سال محنت کی اور اپنے آپ کو ایک مضبوط شخصیت کا حامل انسان بنایا۔ سی ایس ایس کی تیاری میں کئی دوستوں نے بھی مومل کا ساتھ دیا اور انہیں آگے قدم بڑھانے کے لیے ہمت دلائی۔

آج مومل ایک سول سرونٹ ہیں اور اپنی زندگی کی جدوجہد پر فخر کرتی ہیں۔ مومل کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں وہ اپنی بیٹی کی تربیت بھی کرتی رہیں، یہ سب کچھ ایک ساتھ کرنا آسان نہ تھا لیکن خوشی ہے کہ انہوں نے یہ کر دکھایا ہے۔

متعلقہ تحاریر