پولیس کے آشیرباد سے سکھر میں “تیتر بولی” کے غیرقانونی مقابلے

مقابلوں میں حصہ لینے والے تیتر بازوں کو سوشل میڈیا پر باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔

صوبہ سندھ میں کرونا خدشات کے پیش نظر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باوجود پولیس کے آشیرباد سے سکھر اور گردونواح میں “تیتر بولی” کے غیرقانونی مقابلوں کا انعقاد کرایا گیا۔ مقابلوں کے دوران ایس او پیز کی سخت خلاف ورزیاں جاری رہیں جبکہ جواریوں کی جانب سے لاکھوں روپے کا جواء بھی کھیلا گیا۔ شہری و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیتروں کے بین الصوبائی مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے پنجاب ، بلوچستان ، خیبرپختونخوا اور صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد سکھر پہنچی جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیتر بازوں کو مکمل پروٹوکول فراہم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مایوس کرکٹ مداح صارم اختر شہرت کی بلندی پر

“تیتر بولی” مقابلوں کے منتظمین کی جانب سے بھی تیتر بازوں کو لاکھوں روپے کے نقد انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مقابلوں کے دوران تیتر بازوں کی جانب سے  تیتروں کی غیرقانونی خرید و فروخت بھی جاری رہی، جبکہ اس دوران ایک ایک تیتر سولہ سولہ اور چودہ چودہ لاکھ میں فروخت کیاگیا۔

مقابلوں کے بعد منتظمین کی جانب سے جیتنے والوں میں نقد رقم و انعامات تقسیم کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق “تیتر بولی” کے تمام مقابلے محکمہ پولیس سکھر کے ایک افسر کے آشیرباد سے پنہوں نامی شخص کے خالی پلاٹ میں پنڈال لگا کر کرائے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ “تیتر بولی ” مقابلوں کے لیے آرگنائیزر عرفان چانڈیو کی جانب سے سوشل میڈیا پر تیتز بازوں کو باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے گئے تھے۔

دعوت ناموں میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے آنے والے تیتر بازوں کو مکمل ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ کرونا کی وباء کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

Facebook Comments Box