ٹیلی نار تعریف کی بجائے تنقید کا نشانہ

سیلولر کمپنی نے اپنے ملازمین کی ذہنی نشوونما اور دفاعی طاقت بڑھانے کے لیے 3 روزہ تربیت کیمپ کا انعقاد کیا ہے۔

ملک میں بڑھتے ہوئے ہراسانی کے واقعات کے بعد پاکستان کی لیڈنگ سیلولر کمپنی ٹیلی نار نے اپنی خواتین ملازمین کی ذہنی نشوونما اور جسمانی دفاع کے لیے دفاعی تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں ٹیلی نار کمپنی کے سی ای او عرفان وہاب خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “سیکھنا کبھی نہیں رکتا۔ لڑائی میں ایک مکا مارنا ہے یا دو ۔ نظریاتی علم سے لے کر عملی زندگی تک سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں ہم نے خواتین کی دفاعی تربیت کے لیے 3 روزہ تربیتی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس طرح ان کی جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی نشوونما بھی ہوگی۔ “

یہ بھی پڑھیے

انڈین گجرات میں نوجوان کا مانع حمل کے لیے جان لیوا طریقہ

ٹیلی نار کے ایک صارف انجینیئر انیس احمد نے ٹیلی نار کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ٹیلی نار کی جانب سے اپنے ملازمین کے لیے منعقدہ تربیتی سیشن کی ایک جھلک شیئر کی۔

 

پوسٹ کے بعد ، انٹرنیٹ صارفین نے نیٹ ورک سروس کے بارے میں شکایات کی ہیں اور اسے ‘ڈمپڈ’ سروس قرار دیا، تاہم کمپنی نے تمام شکایت کنندگان کی تنقید کو سراہا ہے۔

ٹیلی نار کے سی ای او کے ٹوئٹ کو موقع غنیمت جانتے ہوئے ٹیلی نار کے ایک صارف نعیم صدیق نے لکھا ہے کہ “ہمارے علاقے میں ٹیلی نور کی سروس بہت بری ہے۔”

 

ٹیلی نار کمپنی نے مذکورہ صارف کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “ہم آپ سے بات کرنا پسند کریں گے۔ آپ اپنی مکمل تفصیلات بمعہ موبائل نمبر اور ایڈریس کے ساتھ ہمیں بھیج دیں۔”

واضح رہے کہ ملک خداداد میں 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان کے سامنے ایک خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو 400 افراد کی جانب سے  ہراسگی کا نشانہ بنایا گیا تھا، ان کے کپڑے تار تار کیے گئے تھے اور انہیں ہوا میں اچھالا گیا تھا۔ جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔

یاد رہے کہ اس طرح کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے پوش علاقے میں سابق بیوروکریٹ کی بیٹی نور مقدم کو بہیمانہ طریقے سے گلا کاٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔

Facebook Comments Box