عوام کے لیے ایک اور مشکل انے والی ہے کیونکہ نگران حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر 3.5 روپے مارجن بڑھادیا دیا ہے۔

اب پٹرول اور ڈیزل مزید 3.5 مہنگا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرول اور ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن میں 3 روپے 54 پیسے فی لٹر اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مارجن 1.87 روپے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں آئل مارکیٹننگ کمپنیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر 15 ستمبر سے 47 پیسے فی لٹر مارجن بڑھے گا، ڈیلرز کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر مارجن میں 1.64 روپیہ فی لٹر مارجن بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈیلرز کے لیے پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے مارجن 41 پیسے فی لٹر بڑھایا جائے گا، پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کےلیے پلان بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ پی آئی اے کے لیے 1.3 ارب روپے کی گرانٹس کی سمری مسترد کردی گئی، پی آئی اے نے 1.3 ارب روپے کی ایف بی آر کو ادائیگیوں موخر کرنے کی استدعا کی تھی، اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ پی آئی اے کو مالیاتی ری اسٹرکچرنگ میں معاون کرے۔ وزارت دفاع کی 40 ارب روپے سپلیمنٹری گرانٹس منظور کرلی گئی۔









