فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس: چار سال سے زیرالتوا کیس سماعت کے لیے مقرر

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو 28 ستمبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا جو چار سال سے زیرالتوا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بنائے جانے والے اس بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔
واضح رہےکہ 2019 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نومبر 2017 میں فیض آباد کے مقام پر انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دیے گئے دھرنے کے خلاف سو موٹو کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
تاہم اس عدالتی فیصلے کے خلاف وزارت دفاع سمیت سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، شیخ رشید کے علاوہ انٹیلیجنس بیورو نے بھی نظرثانی کی اپیلیں دائر کر دی تھیں۔
یہ اپیل چار سال سے التوا کا شکار تھی اور اس دوران سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، سابق چیف جسٹس گلزار احمد اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔









