ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، 100 ڈمی کمپنیوں پر مشتمل سیلز ٹیکس کی جعلی انوائسز بنانے کا منظم نیٹ ورک آشکار
ایف بی آر نے اربوں روپے کی سیلزٹیکس کی جعلی انوائسز بنانے والے ایک منظم ریکٹ کا پتہ چلایا ہے جس میں مبینہ طور پر 100 ڈمی کمپنیاں ملوث ہیں اور ٹیکس حکام نے جوکی درج کرائی گئی صرف ایک ایف آئی آر میں آمدن کا نقصان کا تخمینہ 10ارب روپے سے زیادہ ہے۔
یہ ان کلاسیکی مقدموں میں سے ایک ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ کیسے لوگوں کی ملی بھگت سے سسٹم کو تمام فورمز پر دھوکا دیاجاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوا تا ہے کہ سیلزٹیکس ریفنڈ سسٹم کا غلط استعمال کیسے ہوسکتا ہے اور کیسے پی آر اے ایل یہ سمجھنے میں ناکام ہوا کہ ایسے بڑے دھوکے کیسے ہوسکتے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ کے لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر اس قسم کے گروہوں کے سرغنہ کبھی نظام کا استحصال نہیں کر سکتے۔
یہ مجرم جوٹیکس فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث ہیں اور کراچی کے پوش ایریا کی قانونی فرم کی چھتری کے نیچے کام کر رہے ہین اور ان میں سے بڑا ملز م تو اپنی کرپشن اور مس کنڈکٹ کی وجہ سے 2022میں ایف بی ار سے فارغ بھی کیا گیا تھا۔
ایف بی آر کے ذرائع کہتے ہیں کہ دو نیب ریفرنسوں میں بڑا ملزم کرپشن کے الزامات میں نامزد بھی ہوا تھا اور یہ مقدمات ابھی بھی عدالتوں میں زیرالتوا پڑے ہیں۔ ایف بی آر کی سروس سے نکالے جانے کے بعد اس نے متعلقہ فورم پر اپیل بھی کی۔اپنے حالیہ ماضی کے دوران بہت سے مجرمانہ ٹیکس فراڈ کےمقدمات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا جعلی انوائسز سے مبینہ طور پر گہرا تعلق ہے۔
ایف بی آر کی سروس کے دوران بھی اس شخص نے پنجاب سے ایڈووکیٹ کا لائسنس لے لیا تھا اور اب قانونی برادری کا حصہ ہونے کا فائدہ لے رہا ہے ۔ اس نے اپنانام ایف آئی آر میں ڈالنے پر کراچی کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں ایف بی آر کے عہدیداروں کے خلاف ایک درخواست بھی دے رکھی ہے جو 22اے ہے۔
دی نیوز کو ملنے والے سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ایف بی آر کی انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن ، آئی آر حیدرآباد نے محمد امین حامل شناختی کارڈ نمبر3310487063263 مالک میسرز رحمٰن انٹرپرائزز نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی انوائسز کے ذریعے غیر قانونی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی ۔
یہ شخص سیلز ٹیکس ریٹرن کی ای فائلنگ کرتا تھا اور اس نے جنوری 2023میں کوئی خریداری تو نہیں کی مگر 3ارب 32کروڑ روپے سے زائد کی فروخت کی جس کا ٹیکس 5ارب 64کروڑ 41لاکھ سے زائد بنتا ہے اور یوں کو ئی سیلز ٹیکس جمع کرائے بغیر ساڑھے پانچ ارب سےزائد کا سیلز ٹیکس ریٹرن بھرا گیا۔ اسی طرح سے فروری 2023کے ٹیکس عرصے میں جو سلیز ٹیکس ای فائل کیا گیا اس میں فروخت 20144339787روپےکی دکھائی گئی جس کی سیلز ٹیکس آؤٹ پٹ 34کروٹ 24لاکھ 54ہزار روپے بنتی ہے۔
اس رقم کا سیلز ٹیکس ریٹرن بھی بغیر کوئی سیلز ٹیکس جمع کرائے بھرا گیا۔ جعلی سیلز ٹیکس ریٹرن کے ضمیہ ’ سی‘ میں فراڈ کیا گیا۔ اس ملزم نے مارچ 2023 کے عرصے میں سیلز ٹیکس ریٹر ن کا جو ضمیمہ سی ای فائل کیا ہے اس کا بڑا ریٹرابھی تک فائل نہیں کیاجاسکا۔









