بیروزگاری سے تنگ شخص نے بیوی، 2 بیٹوں اور ایک بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی

مالی پریشانیوں میں گھرے شخص کا المناک قدم، بیوی اور تین بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، متوفی نے خود کو پھانسی لگانے سے قبل اپنے پیاروں کے نام ایک خط بھی چھوڑا۔ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ضلع ملیر کے تھانے ائیر پورٹ کی حدود میں واقع فلک ناز اپارٹمنٹ کے فلیٹ میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے اپنے تین معصوم بچوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود بھی پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی اطلاع مددگار 15 پر سہ پہر تقریباً 3:30 بجے پڑوسیوں نے دی جب انھیں گولیاں چلنے کی آواز آئی۔متوفی کی شناخت احسن رضا رضوی، اس کی اہلیہ ندا رضوی، دو بیٹوں جبریل ،میکائل اور ایک بیٹی ام ہانی کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ متوفی مالی مسائل کی وجہ سے پریشان تھا اور کافی عرصے سے بیروزگار تھا جس کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس حکام کے ساتھ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور پانچوں افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفی نے اپنے پاس موجود پستول سے تینوں بچوں اور بیوی کے سر پر گولیاں ماریں اور پھر خود کو پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اپنی جان لینے سے پہلے مقتول نے خط بھی لکھا۔ایس ایس پی طارق مستوئی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر، سب کچھ دیکھا گیا ہے اور کرائم سین کا معائنہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ استعمال شدہ ہتھیار پولیس نے برآمد کر لیا ہے اور اس کی فرانزک جانچ جاری ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاندان مالی پریشانی کا شکار تھا۔ ایس ایچ او تھانہ ائیر پورٹ عرفان آصف کا کہنا ہے کہ جب پولیس وہاں پہنچی تو ہمیں ایک بستر پر تین بچوں اور ان کی ماں کی لاشیں ملیں جب کہ واقعہ کے ذمہ دار شخص نے خود کو لٹکا لیا تھا ۔ان کے پڑوسیوں نے بتایا کہ احسن گارمنٹس سیکٹر میں کام کرتا تھا لیکن تقریباً چار ماہ سے بے روزگار تھا۔جائے وقعہ سے ایک خط بھی ملا ہے جس میں والدہ،ساس اور مختلف قرض خواہوں سے متوفی نے معافی مانگی ہے۔خط میں مختلف نام لکھے گئے ہیں۔پولیس نے جائے وقوع سے 30 بور پستول اور گولیوں کے خول تحویل میں لے لئیے ہیں جنھیں فرانزک کیلئے محفوظ کرلیا گیا ہے،اہل علاقہ کے مطابق متوفی احسن رضا کاروبار بند ہونے کے بعد سے پریشان تھا تاہم کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو گا،جب ہم نے گولیوں کی آوازیں سنی تو ایسا محسوس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے، ہم نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور جب وہ وہاں پہنچے تو یہ منظر ناقابل تصور تھا۔









