مودی حکومت نے معیشت کا دھڑن تختہ کردیا

رواں مالی سال 2020-21 میں انڈیا کی معاشی شرح نمو میں 7.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندرہ مودی کی حکومت کی پالیسیز نے معیشت کا دھڑن تختہ کردیا ہے۔ 4 دہائیوں پر مشتمل ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2020-21 میں انڈیا کی معاشی شرح نمو میں 7.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں 1.6 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پیر کے روز انڈیا کے قومی شماریاتی ادارے (این ایس او) نے ملکی معیشت کی نازک ترین حالت کی عکاسی کی ہے۔ انڈیا میں رواں مالی سال 2020-21 میں گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) 40 سال کی کم ترین سطح پر آنے سے معاشی شرح نمو منفی 7.3 فیصد رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کومت کا کے الیکٹرک کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم کرنے پر غور

اسی طرح رواں مالی سال انڈیا میں مالی خسارہ بھی جی ڈی پی کے 9.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ زراعت کے شعبے میں بھی تنزلی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم نریندرہ مودی کی کسان مخالف پالیسیز ہیں۔

نریندرہ مودی کی حکومت نے معیشت کی تنزلی کی بڑی وجہ کرونا کی وباء قرار دی ہے۔ بالخصوص گذشتہ 3 ماہ کے دوران کرونا کیسز میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ہزاروں افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انڈیا کے آزاد معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کرونا کی وباء کو قابو کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا لیکن تاجروں کو کوئی ریلیف نہیں ملا اور برآمدگی منصوبہ بندی بھی ناکام ثابت ہوئی ہے۔

وزیراعظم نریندرہ مودی
Courtesy: Mint

انڈیا کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ساری توجہ اقلیتوں اور مخالف جماعتوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مرکوز رکھی جبکہ ملک کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا ہے۔

عالمی معاشی حالات اور امکانات پر اقوام متحدہ نے رواں مالی کے وسط میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا تھا کہ انڈیا کی جی ڈی پی کی شرح نمو سال 2021 میں 7.5 فیصد اور 2022 میں 10.1 فیصد ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے رواں مالی سال کے لیے انڈیا کی شرح نمو کا تخمینہ 0.2 فیصد سے بڑھا کر 7.5 فیصد کردیا تھا جبکہ انڈیا کے ترقیاتی منظرنامے کو کافی نازک بھی بتایا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹ کے برعکس رواں مالی سال 202-21 میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments Box