لاکھوں ملازمتیں دینے کے حکومتی دعوے ہوا ہوئے

وزارت خزانہ نے نئے مالی سال میں کفایت شعاری مہم کے تحت تمام نئی نشستوں کے قیام پر پابندی عائد کردی۔

لاکھوں ملازمتیں دینے کے حکومتی دعوے ہوا ہو گئے۔ تمام وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں میں  سخت ترین کفایت شعاری مہم کرتے ہوئے نئی نشتوں کے قیام پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ذاتی حیثیت میں اجلاس میں شرکت پر پابندی ہو گی، آن لائن شرکت کی جائے گی۔ سیروسیاحت اور تفریحی پروگرامز پر پابندی ہو گی اور ٹی اے ڈی اے بھی بند کردیا ہے۔

وزارت خزانہ نے نئے مالی سال 2021-22 کے لیے سخت ترین کفایت شعاری مہم کا آغاز کردیا ہے۔ نئے مالی سال کے لیے جاری کردہ کفایت شعاری مہم کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنز میں نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کے لیے نئی نشستوں کے قیام  پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ حکومت کا بلدیہ کے 4 اسپتال تحویل میں لینے کا فیصلہ

تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور محکمے رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ اور غیرترقیاتی بجٹ سے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کرسکیں گے۔

وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے اجلاسوں یا صوبائی دارالحکومتوں میں ہونے والے اجلاسوں میں افسران ذاتی حثیت میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ اب اجلاس میں شرکت کے لیے ٹی اے ڈی اے کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ ویڈیو لنک یا آن لائن کے ذریعے اجلاس میں شریک ہونے کی شرط عائد کر دی ہے، یوں اجلاس میں شرکت کے بہانے ہونے والے سیر سپاٹے ختم ہوگئے ہیں۔

لاکھوں ملازمتیں حکومتی دعوے

نئی کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری وزارتوں ڈویژنز کو ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ سے نئی کاریں خریدنے پر پابندی ہوگی تاہم موٹر سائیکل، سکول و کالج بس، ایمبیولینس اور آگ بجھانے والی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔

کفایت شعاری مہم کے تحت افسران کو کئی کئی اخبارات اور عالمی جرائد مفت فراہم کرنے کی مطالعاتی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اب افسران صرف ایک قومی اخبار ہی پڑھ سکیں گے۔

تمام وفاقی سیکریٹریز اور پرنسپل اکاونٹنگ افسران کو بجلی، گیس، ٹیلیفون، پانی کے بل مقررہ بجٹ تک محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام وزارتوں، محکموں اور ڈویژنز اور افسران کے گھروں کی مرمت کے اخراجات منظور شدہ بجٹ کے اندر رکھنے کی پابندی ہوگی۔

کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری وزارتوں میں استعمال ہونے والے کاغذ کو دونوں اطرف سے استعمال کیا جائے گا اور محض ایک سائیڈ سے کاغذ استعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔

کرونا وباء کی صورتحال کے پیش نظر وزارتوں میں کفایت شعاری پالیسی کو کامیاب بنانے اور وزارتوں میں ہنگامی نوعیت کے اضافی اخراجات کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے سپلیمنٹری گرانٹس کی سفارش کرنے کے لیے ایڈیشنل فنانس سیکٹری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں سینیئر جوائنٹ سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری، متعلقہ وزارت کے گریڈ 20 کے ایک ایک افسر اور وزار ت خزانہ کے ڈپٹی سیکریٹری اخراجات شامل ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی کفایت شعاری کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے ہیں اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس کفایت شعاری مہم پر کتنا عمل کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی دعوے کدھر گئے جن میں نوجوانوں کو لاکھوں ملازمتیں دینے کے وعدے کیے جاتے تھے۔ مہنگائی کی گردن ناپنے کا کہا جاتا تھا۔ ایک ہی دن میں چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے اضافہ کردیا گیا، گھی کےایک کلو کے پاؤچ پر 90 روپے بڑھا دیے گئے اور آٹے کے 20 کلو کے تھیلے پر 150 روپے اضافہ کردیا ہے۔

Facebook Comments Box