ابصار عالم اور رؤف کلاسرا ٹوئٹر پر مادر پدر آزاد صحافت کرتےہوئے

ٹوئٹر پر رؤف کلاسرا اور سابق چیئرمین پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ابصارعالم کے درمیان سوشل میڈیا پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کا استعمال کیسا ہے اس سے تو میں آگاہ نہیں لیکن پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر ٹوئٹر کی محفل سیاست دانوں، صحافیوں اور اداکاروں کے درمیان نوک جھونک کے بغیر ایسے ادھوری لگتی ہے جیسے قیمے والے نان کے بغیر مسلم لیگ ن کا جلسہ جیسے  بلند و بالا دعوؤں اور وعدوں کے بغیر تحریک انصاف کی بیٹھک۔

ایسے ہی پاکستانی کی ٹوئٹر کی محفل گذشتہ روزایسے ہی بام عروج پر پہنچ گئی جب معروف صحافی اور اینکر پرسن رؤف  کلاسرا اور سابق چیئرمین پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ابصارعالم کے درمیان سوشل میڈیا پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ہوا کچھ یوں کہ رؤف کلاسرا نے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر ابصار عالم کو مخاطب کرتےہوئے لکھا “ویسے اپنے پرانے دوست چیئرمین ابصار عالم کو کل عمران خان حکومت کے خلاف صحافیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرتے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کبھی وہ چیئرمین پیمرا کے طور پر انہی صحافیوں اور مالکان کے خلاف 50 کروڑ جرمانہ اور 10 سال قید کا بل بنا کر قائمہ کمیٹی میں لائے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ابصار عالم الزامات کے بجائے تحقیقات کروانے پر زور دیں

ابصار عالم کا نام لئے بغیر لکھا کہ  کبھی آپ فرماتے ہیں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کی وجہ آپ ہیں۔کبھی فرماتے ہیں جنرل باجوہ کو آپ کی سفارش پر آرمی چیف بنایا گیا۔اب فرماتے ہیں مجھے دودھ بھی آپ نے پلایاآپ پاکستان کے صدر بش تو نہیں لگ گئے؟آپ کو hallucinations کا مرض ہے۔ کوئی اچھا ماہر نفسیات ڈھونڈیں اور اپنا علاج کرائیں مرشد۔

رؤف کلاسرا کے اس ٹوئٹ کے بعد سابق چیئرمین  پیمرا  ابصار عالم نے  لکھا کہ رؤف کلاسرہ آپ اتنے سالوں مسلسل میرے خلاف جھوٹ بول رہے ہیں صرف سیٹھ کی ملازمت کی خاطر لیکن کبھی آپ کو پلٹ کر جواب نہیں دیا، ساتھ گُزرے وقت کی حیا میری آنکھ میں  ابھی باقی ہے، کاش آپ کی بجائے کسی سانپ کو دودھ پلایا ہوتا تو شاید وہ بھی اتنا مُنافق، حاسد، مکار اور جھوٹا نہ ہوتا۔

رؤف آپ کو کُچھ گھنٹوں کی گہری نیند کی ضرورت ہے تاکہ آپ کی خیالی کڑاہی کا اُبال کُچھ کم ہو اور آپ ہوائی باتیں کرنے سے گریز کریں، گیلانی صاحب نے کبھی کوئی ایسا کالج وزٹ کیا ہو تو اُن کی کوئی تصویر، خبر پیش کریں ثبوت کے طور پر؟

اگر نہ کر سکے تو پہلے فقرے کو دوبارہ پڑھیں۔

دو سینئر صحافیوں کےد رمیان لفظی جنگ کو صارفین  نے اخلاقیات کے منافی قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ دونوں حضرات کو  مل بیٹھ کر اپنے اختلافات کا حل نکالنا چاہئے اس طرح  سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر  ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات  کسی صورت بھی  مناسب نہیں ہیں ۔

دونوں صحافیوں کے درمیان سنگین الزامات میں صارفین نے اپنی پسندیدہ  شخصیت  کی حمایت کی  ایک صارف محمد کاشف میؤ نے ابصار عالم کے حق اور رؤف کلاسرا کے خلاف بیان دیتے ہوئے لکھا کہ  “رؤف کلاسرا احمدنورانی کیخلاف بھی ایسے ہی بےسروپا الزامات لگانے کے بعد منہ چھپاتا پھرا اور اب ابصار عالم صاحب کیخلاف بھی گھٹیا پروپیگنڈا. یوسف رضا گیلانی سے اہلیہ کے نام پر فوائد لینے والے رؤف کلاسرا کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے”۔

 دونوں حضرات  کی جانب  سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات اور ذاتیات پر حملے  اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے معاشرے سے برداشت تحمل اور اخلاقیات رخصت ہوتی جارہی ہے، جب صحافت جیسے مقدس پیشے سے  وابستہ سینئر افراد ایک دوسرے کے خلاف اخلاقی پستی کا مظاہرہ کریں گے تو معاشرے کے عام فرد سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔

Facebook Comments Box