حکومت کا ٹیکس چوروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے آرڈیننس جاری

حکومتی درخواست پر صدر مملکت عارف علوی نے ٹیکس قوانین کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس 2021 پر دستخط کردیے ہیں۔

ٹیکس چوروں اور ٹیکس جمع کرا کر اس کا گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف حکومت نے سخت ترین آرڈیننس جاری کردیا ہے۔ نئے آرڈیننس کے تحت موبائل فون سم بند، ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع اور بینک اکاؤنٹ منجمد ہو جائیں گے۔ نیب  20 سال پرانے کھاتوں کا حساب لے گا۔

حکومت نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے ٹیکس قوانین کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس 2021 پر دستخط کردیے ہیں جس میں تاریخ ساز فیصلے کیے گئے ہیں۔ آرڈیننس وفاقی بجٹ کے لاگو ہونے کے 80 دن بعد نافذ کیا گیا ہے۔ آرڈیننس 16 صفحات پر مشتمل ہے اور خاص طور پر اس کا صحفہ نمبر 10 عوام اور چھوٹے ٹیکس گزاروں اور ملازمت پیشہ افراد کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے حکومت بھی پریشان، نئی کمیٹی تشکیل

ٹیکس گوشوارہ جمع نہ کرایا تو سم بند کردی جائے گی

آرڈیننس کے صفحہ 10 کے مطابق ایسے تمام افراد جو ٹیکس تو جمع کراتے ہیں لیکن ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے، ان کی موبائل فون سم بند ہو جائیں گی، اگر 25 ہزار کا بجلی یا گیس کا بل یا ڈاک ہوئی یعنی 25 ہزار روپے کی آن لائن شاپنگ ہوئی تو گوشوارہ جمع کرانا ہوگا۔ ایف بی آر نان فائیلر کے ٹیلی فون ، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کر سکے گا۔ نان فائلر پرفیشنلز کے لیے بجلی کے بل کی مختلف سلیب پر 35 فی صد تک ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ پروفیشنلز میں وکلاء، ڈاکٹرز، اکاؤٹینٹس، انجینیئرز، آئی ٹی ماہرین اور دوسری سروسز فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں۔ کمپنیاں اور کارپوریٹ سیکٹر پچیس ہزار روپے تک ڈیجٹیل ترسیلات کر سکتی ہیں۔ نان فائلر بینکنگ کی سہولت سے بھی محروم ہو سکتے ہیں اور اگر ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں کرایا تو ایف بی آر ٹیکس دینے کے باوجود بھی تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرسکتا ہے۔

ٹیکس چوروں

غلط ٹیکس معلومات دینے پر بھاری جرمانہ اور سزا

ٹیکس جمع کرانے والوں کو اپنا ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے میں بہت احتیاط کرنا ہوگی اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ٹیکس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر کم از کم 5 لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال سزا ہو سکے گی۔

آرڈیننس کے تحت نیب کے ہاتھ مزید مضبوط

آرڈیننس کے نفاذ سے نیب اور نادرا کو ٹیکس دہندگان کی تفصیلات تک رسائی مل گئی ہے۔ آرڈیننس کے نفاذ سے پارلیمنٹیرین اور سرکاری افسران کو ٹیکس کی تفصیلات ظاہر کرنے کا استثنیٰ ختم ہو گیا ہے۔ نیب کو 20 سال سے پرانے بند کیے گئے مقدمات دوبارہ کھولنے کا اختیار بھی مل گیا۔ نئے آرڈیننس کے تحت نیب کو او ای سی ڈی کے تحت ملنے والے آف شور ٹیکس ڈیٹا تک رسائی کا حق حاصل ہو گیا ہے اور اب نیب پاکستان سے باہر چھپائے گئے اثاثوں کی تحقیقات بھی کرسکے گا۔

Facebook Comments Box