دورہ پاکستان کی منسوخی ،برطانوی پاکستان کے حق میں بول پڑے

برطانوی صحافی، سابق کرکٹر، کمنٹیٹر اوردیگر نے اپنے ہی کرکٹ بورڈ پرسخت تنقید کی ہے کہ مشکل وقت میں برطانیہ کو پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے تھا

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی جانب سے سریز کااعلان ہوگیا اور میچ شروع ہونے سے محض چند لمحات قبل دورہ کو سیکیورٹی خدشات کا بہانا بنا کر منسوخ کرنے کے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے بھی دورہ پاکستان کومنسوخ کردیا۔

دورہ پاکستان کی منسوخی پر جہاں پاکستانی کرکٹ شائقین میں مایوسی پھیلی اور برطانوی کرکٹ حکام کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہیں انگلینڈ کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، برطانوی صحافی، سابق کرکٹر، کمنٹیٹر اوردیگر نے اپنے ہی کرکٹ بورڈ پرسخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ کے خلاف بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان کے حق میں بول پڑے

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کی منسوخی پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے بعد برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے پر پوری دنیا نے ای سی بی کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے،  کرکٹ سیریز منسوخ کرنا انگلش کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ہے برطانوی حکومت کا فیصلہ نہیں تھا، انگلینڈ دورے میں کوئی سیاست تھی اور نہ کوئی سازش ہے۔

انھوں نے کہا کہ  پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی  مسئلہ اب نہیں ہے میں خود پاکستان میں آزادانہ گھومتا ہوں اور اگرسیکیورٹی خدشات ہوتے تو میں سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کرتا،  کرکٹ سیریز کی منسوخی پر افسوس ہے۔

دورہ منسوخی پر برطانوی صحافی جارج ڈوبیل نےبرطانوی کرکٹ بورڈ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کرکٹ حکام کو یاد دہانی کرائی کہ برطانیہ کے سب سے معروف شہر لندن  جو سب سے محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل دہشتگردی کا واقعہ ہوا، انگلینڈ میں نیوزی لینڈ کی خواتین کی کرکٹ  ٹیم کو دھمکی ملی، ایشیز سے قبل دہشتگردی ہوئی، حال ہی میں میچز کے دوران تماشائی میدان میں آگئے یہ ایسی صورتحال ہے کہ اگر یہ سب کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو انگلینڈ کیا کرتا؟ برطانوی دفتر خارجہ نے ٹریول ایڈوائس نہیں بدلی، سیکیورٹی ایڈوائزر نے کوئی خطرہ ظاہر نہیں کیا،  سفارت خانہ بھی مطمئن تھا مگر دورہ منسوخ ہوا ان سب کی کیا وجوہات ہیں؟۔

برطانوی صحافی نے حکام سے سوال کیا کہ ان تمام واقعات کے باوجود اگرلندن میں زندگی جاری رہ سکتی ہے تو لاہور میں کیوں نہیں؟ پاکستان نے سخت ترین حالات میں انگلینڈ کا دورہ کیا، انگلش کرکٹ بورڈ دہرے معیار کی وجہ سےکرکٹ کے دوستوں سے محروم ہوجائےگا۔

انگلش کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر ایک اور برطانوی صحافی پیٹر وبورن نے تنقید کرتےہوئے  کہا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بزدلانہ فیصلے سے  ایک ایسے دوست کو نقصان پہنچایا جس کا ہمیں مشکور ہونا چاہیےجس نے اس وقت برطانیہ کا دورہ کیا جب کوئی راضی نہیں تھا ، ایسا دکھائی دیتا ہےکہ انگلش کرکٹ بورڈ پلیئر پاور سے گھبراتا ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ انگلش کرکٹ کی گورننگ باڈی اورکھلاڑیوں کے پاس موقع تھا کہ وہ اس  کرکٹ نیشن کا قرض ادا کرتے جس نے بہت چیلنجزکا سامنا کیا، یہ پاکستان کا ہائی پروفائل سیزن تھا، پاکستان کو اس وقت شدید مالی نقصان کا سامنا ہےانگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے تھا ۔

انگلینڈ کی جانب سے دورے کی  منسوخی پر  انگلینڈ کی سابق خواتین کرکٹرز بھی خاموش نہیں رہیں ، برطانیہ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان شیرلٹ ایڈورڈز نے  بھی انگلینڈ ویمنز ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ  مردوں کی ٹیم کی بھرپور تیاری نہیں ہو لیکن خواتین کی کرکٹ ٹیم کیلئے دورہ بہت اہم تھا۔ سابق کپتان  نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ  سال ہمارے لئے بہت کچھ کیا، لگتا ہے ہم بھول گئے ہیں لیکن مجھے پی سی بھی سے ہمدردی ہے۔

ایک اور برطانوی خواتین کرکٹ کی سابق کھلاڑی ایبونی رین فورڈ نے کہا کہ پاکستان نےعالمی وباکورونا وائرس کے دوران اپنے بہتر حالات سے نکل کرہماری مدد کی، اب اس کا جواب دینے کا موقع تھا لیکن انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے مایوس کیا ای سی بی کے بیان سے واضح ہے کہ سکیورٹی کا مسئلہ  نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر معاملہ سیکیورٹی کا ہی تھا تو سڑکیں بند، ہوٹل سیل کرکے اور گارڈز مہیا کرکے حل ہوسکتا ہے اور اگر  ورک لوڈ کا مسئلہ تھا تو کیا انگلینڈ کو دو منٹ پہلے پتہ چلا کہ ٹوور ہورہا ہے؟۔

متعلقہ تحاریر