ایران نے عبوری افغان حکومت میں اپنی پراکسیز شامل کروا دیں

دو اہم سیکیورٹی کی وزارتیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اتحادیوں نے سنبھال لی ہیں، کامران بخاری

ایران، افغانستان کی عبوری حکومت میں اپنی پراکسیز شامل کرانے میں کامیاب رہا، یہ کہنا ہے کامران بخاری کا جو کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور دفاعی و خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک Stratfor سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

کامران بخاری کے مطابق طالبان کی عبوری حکومت میں دو اہم سیکیورٹی کی وزارتیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اتحادیوں نے سنبھال لی ہیں۔

کامران بخاری نے لکھا کہ ڈپٹی وزیر دفاع ملا عبدالقیوم ذاکر اور ڈپٹی وزیر داخلہ صدر ابراہیم دونوں شخصیات پاسدارانِ انقلاب کے قریب ہیں۔

پنجشیر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجک شہری کو کامرس کا نگران وزیر بنایا گیا ہے جبکہ بغلان کے ازبک کاروباری شخص کے پاس نائب وزارت کامرس ہے اور کامرس کے دوسرے ڈپٹی منسٹر بھی شمالی صوبے سرائے پل سے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک کے سابق سربراہ کے مطابق تمام اہم وزارتیں شمالی صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کو دی گئی ہیں، شعبہ کامرس کی اہمیت ایران کے لیے یوں بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا تجارتی مال افغانستان میں فروخت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

معتبر بھارتی تجزیہ کار بھی افغانستان میں پاکستانی فتح کے معترف

مزید برآں، شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو بھی عبوری کابینہ میں ڈپٹی ہیلتھ منسٹر کی صورت میں نمائندگی دی گئی ہے۔ افغانستان میں رہائش پذیر تینوں اقلیتی گروہوں کو عبوری سیٹ اپ میں برائے نام نمائندگی ملی ہے۔

کامران بخاری کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد کرنے پر طالبان ان علاقوں سے وزرا کا انتخاب کرکے خیرسگالی کا پیغام دے رہے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈئیر جنرل اسماعیل قانی نے کئی برس تک ایران کے مشرقی حصے پر توجہ دی جبکہ ان کے ساتھی افسران کی توجہ عرب ممالک پر تھی۔

کامران نے لکھا کہ  طالبان کی موجودہ عبوری حکومت میں پاکستان اور ایران کے حمایت یافتہ افراد کی شمولیت سے توازن پیدا ہوگیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کا افغانستان کے معاملات پر کس حد تک اثرورسوخ ہے۔

Facebook Comments Box