اداکارہ عالیہ بھٹ ہندو مذہبی رسم کے خلاف

عالیہ بھٹ نے ایک شادی ملبوسات کے اشتہار میں ہندو مذہبی رسم پر سوال اٹھایا جس نے شدت پسند ہندوؤں کو سیخ پا کردیا

بھارت میں بی جے پی کے راج میں شدت پسندی اورانتہا پسندی نے جوعروج حاصل کیا ہے وہ اس سے قبل نہیں تھا، انتہاپسند ہندوؤں کے شدت پسندی سے بھارت میں رہنے والے مسلمان ہی نہیں بلکہ بالی وڈ کے معروف ادا کار بھی محفوظ نہیں ہیں، حالیہ عالیہ بھٹ شدت پسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں۔

بالی وڈ کےمعروف فلم ساز مہیش بھٹ کی صاحبزادی اور بالی وڈ کی معروف اداکارہ عالیہ بھٹ ان دنوں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں ان کے ایک شادی ملبوسات کے اشتہار نے بھارت  میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے

عالیہ بھٹ کی پاکستانی ریپر کی تعریف

معاملہ کچھ یوں ہے کہ عالیہ بھٹ نے ایک شادی ملبوسات کے ایک اشتہار میں کام کیا جس میں ہندو مذہب کی ایک رسم ‘کنیا دان’ کو موضوع بنایا گیا ہے جس کا لفظی مطلب ہے کہ والدین اپنی بیٹی کو داماد کے گھر عطیہ کر دیتے ہیں، کنیا ہندی زبان میں بیٹی کو جبکہ دان کے معنی عطیہ کہ ہیں، عالیہ بھٹ کے اس اشتہار کو انتہا پسند ہندوؤں کے ایک طبقے نے اس کو ہندو مذہب اور رسم و رواج کے خلاف سنگین سازش قرار دیا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Mohey (@moheyfashion)

 

اشتہار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک دلہن (عالیہ) اپنی شادی کے  موقع پر اپنے فیملی اراکین  کی اس کے ساتھ غیر مشروط محبت کی تعریف کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی کنیا (بیٹی) سے متعلق بھارتی رسم کنیا دان  کی روایتی سوچ پر سوال اٹھاتی ہے اور کنیا دان کی جگہ کنیامان کا آئیڈیا دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں کوئی دان ( عطیہ ) نہیں بلکہ مان  ہوں  ، اشتہار نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ کنیادان کی روایت کو کنیامان کے ساتھ بدل دیا جائے۔

 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس اشتہار کے حق اور مخالفت میں صارفین اپنے اپنے دلائل پیش کررہے ہیں   کچھ لوگوں نے اس سوچ کی تعریف کی ہے اورموجودہ زمانے اور جدید خیالات کی ہندو لڑکیوں کی ترجمانی قرار دیا ہے تاہم شدت پسند ہندوؤں کی جانب  سے  اس کی شدید مخالفت دیکھنے میں آئی ہے جنہوں نے اس کو  ہندو رسم و رواج اور مذہب کے منافی قرار دیا ہے۔

 

عالیہ بھٹ کے اشتہار پر بالی وڈ کی اداکارہ کگنا رناوت  نے اپنے انسٹاگرام  پر پیغام میں کہا ہے کہ میری تمام مصنوعات بنانے والی برانڈز سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنے مصنوعات کی فروخت کیلئے مذہب ،  قلیت، اکثریت  اور سیاست  کا استعمال نہ کریں   معصوم صارفین کو  اشتہارات سے تقسیم کرنا بند کریں ۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Kangana Thalaivii (@kanganaranaut)

 

Facebook Comments Box