ساٹھ سالہ قدیم "خان بابا ریسٹورنٹ” ذائقے اور معیار میں اپنی مثال آپ

کھابوں کے شہر لاہور میں ویسے تو مزیدار کھانوں کی بیشمار جگہیں ہیں مگر لاہور میں کچھ ایسے فوڈ پوائنٹس ہیں جہاں کا معیار ذائقہ اپنی مثال آپ ہیں۔ شہر کی قدیمی دکان چوبرجی چوک پر واقع "خان بابا ریسٹورنٹ” ہے۔

لاہور کے کھانے تو پوری دنیا میں خاض سمجھیں جاتے ہیں مگر خان بابا ریسٹورنٹ کے کھانوں کا ذائقہ کچھ زیادہ ہی الگ ہے۔ رسٹورنٹ کا ساٹھ سال گزرنے کے باوجود معیار اور ذائقہ آج بھی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان کی روایتی چپل "چوُٹ” ہمسایہ ممالک میں بھی مشہور

خان بابا ریسٹورنٹ پر کھانے خاص دیسی گھی کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں۔

"خان بابا ریسٹورنٹ” کے مالک خالد خان کا ذائقہ 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 60 سال سے دکان کا معیار اور ذائقہ برقرار ہے ، والدہ حیات ہے وہ ہمیں آج بھی کھانوں کو منفرد بنانے کیلئے آگاہ کرتی رہتی ہیں ، ہم پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے کھانا دیسی گھی میں تیار کرتے ہیں اور گوشت اپنے ہی دیسی گھی میں تیار کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جتنے کھانے بناتے ہیں سب وقت سے پہلے ختم ہو جاتے ہیں۔ لوگ نسل در نسل ہمارے پاس آتے ہیں ہمارے مشہور کھانوں میں مٹن قورمہ، قیمے والے نان اور دیسی گھی کی دال ہیں جبکہ سردیوں کی آمد کے پیش نظر خصوصی مچھلی کا بھی جلد انتظام ہوگا۔

چیف شیف علی شیر نے نیوز 360 کو بتایا کہ ان کے کھانوں کے منفرد ہونے کی وجہ ایک تو دیسی گھی ہے دوسرا تازہ جوان جانور کا گوشت ، تیسرا خالص مصالحے اور چوتھا صاف ستھرے ماحول میں تیاری ہے، آج تک معیار اور ذائقہ اس لئے بھی برقرار ہے ہم تمام سامان خالص اور خود تیار کرواتے ہیں، لوگ ہم پر اعتماد کرتے ہیں ان کا اعتماد ہی ہماری کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "خان بابا ریسٹورنٹ” کے کھانے نہ صرف لاہور، پورے پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں پسند کیے جاتے ہیں، پورے پاکستان سے لوگ یہاں آتے ہیں جبکہ بیرون ممالک سے بھی آرڈر پر کھانے تیار کر کے بھیجے جاتے ہیں۔

خان بابا پر موجود لوگوں نے نیوز 360 کو بتایا کہ یہاں کے کھانوں کے معیار اور ذائقے کی وجہ سے ہمیشہ خان بابا ریسٹورنٹ کا انتخاب کرتے ہیں، ان جیسا ذائقہ لاہور میں کسی کا ذائقہ نہیں ہیں، ذائقے تو لاہور میں بہت ہیں مگر یہ ذائقہ کچھ زیادہ خاص ہوتا ہے۔

ایک شہری نے بتایا کہ وہ کچھ روز قبل وطن واپس آئے ہیں تو یہاں کھانا کھانے کے لیے آتے ہیں کیونکہ دوسرے ممالک میں ایسے کھانے نہیں ملتے۔

Facebook Comments Box