ایندھن بحران سے عالمی جی ڈی پی سکڑ جائے گا، میاں زاہد حسین

سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں زاہد حسین کا کہنا ہے عالمی سطح پر ایندھن بحران سے کوئلے کی دم توڑتی صنعت کو نئی زندگی مل گئی ہے۔

نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ایندھن کے عالمی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے تقریباً تمام ممالک کا جی ڈی پی سکڑ جائے گا۔

میاں زاہد حسین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایندھن بحران سے غربت بڑھے گی اور ماحول بری طرح متاثر ہو گا۔ ایندھن کے بحران کی وجہ سے گیس، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے تاہم سب سے زیادہ اضافہ کوئلے کی قیمت میں ہو رہا ہے جس سے اس دم توڑتی ہوئی صنعت کو نئی زندگی مل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شوکت ترین آئندہ ہفتے 90 روپے کلو چینی کیسے بیچیں گے ؟

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی قیمت دگنی ہو گئی ہے اور اسکی مانگ بھی مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے پاکستان سمیت ساری دنیا بجلی، دھاتوں، سمینٹ، کیمیکل، کاغذ، شیشے، ٹیکسٹائل اورکاٹن فائبر وغیرہ کی پیداوار مہنگی ہونے سے ان اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوجائے گا۔

سابق صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ ایک سو چھیانوے ممالک اور تنظیموں نے 2015 میں پیرس ایگریمنٹ پر دستخط کئے تھے جس کے مطابق موسمیاتی تغیر کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے کوئلے اور تیل کے استعمال کو بتدریج کم کرنا تھا اور متبادل توانائی کے استعمال کو بڑھانا تھا مگر موجودہ صورتحال میں تمام صنعتی ممالک نے اپنی پیداوار قائم رکھنے اور عوام کو موسم سرما میں حرارت پہنچانے کے لئے اس معاہدے کو پس پشت ڈال دیا ہے اور کوئلے پر سرمایہ کاری نہ کرنے کا عہد بھی توڑ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایندھن کے بحران کی وجہ سے پاکستان میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی صنعت متاثر ہوگی جبکہ سیمنٹ کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی جس سے تعمیراتی سرگرمیوں کو دھچکا لگے گا اور اس سے سیمنٹ کی مانگ اور پیداوار میں بھی کمی آئے گی جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور سیمنٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی اور سیمنٹ کی پیداوار جو سال رواں میں تقریباً پانچ لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے اس میں خاطر خواہ کمی آنے کا امکان ہے۔ موجودہ صورتحال نجی اور سرکاری شعبہ کے منصوبوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

Facebook Comments Box