آئی سی آئی جے نے عمران خان سے مالیاتی نہیں سیاسی سوالات کئے

پنڈورا پیپرز کی تیاری کے لئے جو سوالنامہ وزیراعظم عمران خان کو بھیجا وہ غیر موضوع اور مالی سے زیادہ سیاسی نوعیت کا تھا

پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کرنےوالے ادارے آئی سی آئی جے  کے عمران خان کو بھیجے گئے سوالنامے کے پیچھے سیاسی مقصد تھے؟  وزیر اعظم عمران خان کو بھیجے گئے ایک غیر موضوعی متنازعہ سوالنامے نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینئر صحافی اور کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے ایک شو میں انکشاف کیا کہ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کرنےوالے ادارے  بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پنڈورا پیپرز کی تیاری کے لئے کے جو سوالنامہ  وزیراعظم عمران خان کو بھیجا وہ غیر موضوع سوالنامہ مالی سے زیادہ سیاسی تھا، اس کے محرکات پر شکوک  و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بھیجا گیا سوالنا مہ متنازع سوالات پر مشتمل تھا جس میں عمران خان کے فوج کے ساتھ تعلقات جیسے سوالات  تھے جس کا اس مالیاتی سوالات سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پینڈورا پیپرز ، میڈیا مالکان تلاشی دیں

مجیب الرحمن نے کہا کہ وہ یہ جان کر حیران  ہیں اور حکومت کو تجویز دی ہے کہ معاملے کو بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے)کے ساتھ اٹھایا جائے کیونکہ اس طرح کے سوالات پوچھنا اس کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے پنڈورا پیپرز  کی تحقیقات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عمر چیمہ  غریدہ فاروقی کے پروگرام میں جب اس حوالے سے  سوال پوچھا گیا کہ وزیراعظم سے پوچھے گئے سوالات کا مالیاتی سے زیادہ سیاسی نوعیت کے کیوں تھے اور وہ بھی  وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ جائیداد کے بارے میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے جڑواں پتوں کی وجہ سے الجھن پیدا ہوئی۔

واضح رہے کہ پنڈورا پیپرز  میں شامل دو آف شور کمپنیاں لاہور کے زمان پار ک ہاؤس نمبر 2 کے رہائشی فرید الدین برکی کی ملکیت ہیں یہ وہی پتہ ہے جو عمران خان نے صوبائی دارالحکومت میں اپنی رہائش کے لیے رکھا ہےتاہم بعد میں معلوم ہوا کہ مکان نمبر2  کو دو مختلف رہائش گاہوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو بہت دور ہیں۔

Facebook Comments Box