مینار پاکستان واقعہ: عائشہ اکرم نے ہیرو کو ولن بنادیا

مینار پاکستان واقعہ کا اصل مجرم ریمبو نکلا، ریمبو میری نازیبا ویڈیوز بلیک میل کرتا تھا، مینار پاکستان پر جو ہوا سارا منصوبہ بھی اسی کا تھا، عائشہ اکرم

جشن آزادی کے موقع لاہورکے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے غیراخلاقی حرکات کے معاملہ میں نیا موڑ آگیا، متاثرہ خاتون نے ہیرو کو ہی ولن بناڈالا ، افسوس ناک واقعے کی تمام ترذمہ داری ٹک ٹاک ویڈیو میں نظر آنے والے ساتھی ریمبو کو قرار دے دیا ریمبو کو وہ ماضی میں اپنا بھائی  اور پارٹنر قراردیتی رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہورانویسٹی گیشن پولیس  کوسانحہ گریٹر اقبال پارک میں اہم پیشرفت حاصل ہوگئی، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال خان کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم کو اہم کامیابی حاصل ہوئی، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن گیشن کا کہناتھا کہ گریٹر اقبال پارک کی متاثرہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم  کے تتیمہ بیان میں 13افراد کو نامزد کیا، بیان کے بعد گریٹر اقبال پارک کے مرکزی ملزم عامر سہیل عرف ریمبو سمیت 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کا کیس سست روی کا شکار

خاتون ٹک ٹاکر کے واقعے نے کئی  لڑکیوں  کو زبان  دے  دی 

کیس میں نیا موڑ تب آیا جب عائشہ اکرم نے تمام واقعہ کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کو ٹہرایا، عائشہ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو جمع کردہ تحریری بیان میں کہا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا پلان ریمبو نے ہی بنایا تھا، ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنارکھی ہیں ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا،عائشہ اکرم نے الزام لگایا کہ ریمبو مجھے بلیک میل کرکے دس لاکھ روپے لے چکا ہے جبکہ میں اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی ۔ ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے ۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے تاحال اس کیس پر بات کرنے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب عائشہ اکرم کی جانب سے واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا جانے والا ساتھی ریمبو جو اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میرا اس واقعہ میں کوئی کردار نہیں ہے بلکہ میں نے بہت مشکل سے مینار پاکستان سے عائشہ اکرم کو لوگوں سے زندہ بچاکر محفوظ مقام تک پہنچایا لیکن آج مجھے ہی اس کیس میں تمام واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یادرہے گریٹر اقبال پارک میں 14اگست کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیےجانے، کپڑے پھاڑنے اور زدوکوب کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔اس واقعے کے بعد پولیس نے 300 سے زیادہ افراد کو جیو فینسنگ کی مدد سے حراست میں لیا تھا۔ جن میں سے متاثرہ خاتون نے شناخت پریڈ میں صرف چھ ملزمان کو شناخت کیا تھا جو ریمانڈ پر جیل میں بند ہیں جب کہ باقی افراد رہا کیے جا چکے ہیں۔

Facebook Comments Box