دنیا کا پہلا سوچنے والا روبوٹ تیار

جب روبوٹ کے خلیوں میں بجلی کے ذریعے حرکت پیدا کی گئی تو اس نے بھول بھلیوں سے راستہ تلاش کرلیا۔

جاپانی سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا سوچنے والا روبوٹ بنا لیا ہے جو کہ دیواروں اور رکاوٹوں کے درمیان اپنا راستہ خود تلاش کرسکتا ہے۔

اس روبوٹ میں انسانی دماغ جیسے نیورونز ہیں جو کہ لیبارٹری میں بنائے گئے اور جب خلیوں میں بجلی کے ذریعے حرکت پیدا کی گئی تو روبوٹ نے بھول بھلیوں سے راستہ تلاش کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایلون مسک کا انسانی خاصیت والے روبوٹ بنانے کا اعلان

مصر نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے روبوٹ ایجاد کرلیا

روبوٹ نے ایک تکنیک جسے physical reservoir computing کہا جاتا ہے کے ذریعے انسانی ذہن کی طرح کام کر کے رکاوٹوں کو عبور کرلیا۔

پروفیسر ہیروکازو نے کہا کہ یہ خلیے یا نیورونز جانداروں کے لیے بنائے گئے تھے لیکن انہیں روبوٹ میں نصب کر کے کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی روبوٹ کو ذہنی مشق سکھائی گئی ہے۔ اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسے غلط سمت میں لے جاتی تو خلیوں میں موجود نیورونز میں بےچینی پیدا ہوجاتی جو کہ اسے بتاتے کہ اس کی سمت غلط ہے۔

مستقل آزمائشوں کے دوران روبوٹ کو سگنلز دئیے جاتے رہے جب تک اس نے دیا گیا ٹاسک مکمل نہ کرلیا۔

یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ 50 برسوں میں انسانوں کے کرنے والے زیادہ تر کام روبوٹس بھی سرانجام دے سکیں گے۔

جاپانی سائنسدانوں کی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیشرفت ایسا سپر کمپیوٹر بنانے میں رہنمائی کرے گی جو کہ انسانی ذہن کی طرح کام کرے گا۔

Facebook Comments Box