ایف بی آر نے مشیر خزانہ کے وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا

ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے عالمی بینک ، آئی ایم ایف اور اے ڈی بی سمیت کئی دوسرے ادارے ٹیکس قوانین میں آسانی لانے کا مطالبہ کررہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے اندرون ملک ٹیکسز کے تمام قوانین کو یکجا کرنے اور ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ان لینڈ ریونیو کوڈ کا افتتاح کردیا۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہےکہ ان لینڈ ریونیو کوڈ تشکیل دینے کا مقصد ٹیکس قوانین اور قواعد کی کثرت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہےکہ ان لینڈ ریونیو کوڈ کا باقاعدہ آغاز یکم جولائی 2022 سے نافذالعمل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں مہنگائی کا30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، پی ٹی آئی وزراء کا حکومتی پالیسی کا دفاع

اے ڈی بی دسمبر میں پاکستان کو 600 ملین ڈالر فراہم کرے گا

تفصیلات کے مطابق کوڈ کی تشکیل کے لیے مشیر خزانہ شوکت ترین کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر نے مسودے کی تیاری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈر سے مشاورتی عمل مکمل کیا تھا۔

کوڈ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان ایف بی آر نے بتایاکہ ان لینڈ کوڈ کی تشکیل سے ٹیکسز کے نظام میں حائل بہت سے پیچیدگیاں دور ہو جائیں گی۔

ترجمان ایف بی آر کا کہنا تھا کہ عالمی بینک ، آئی ایم ایف اور اے ڈی بی سمیت کئی دوسرے ادارے ٹیکس قوانین میں آسانی لانے کا مطالبہ کررہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت چار بڑے ٹیکس قوانین نافذ العمل ہیں۔ انکم ٹیکس آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) آرڈینینس 2001 شامل ہیں۔ حکومت نے چاروں قوانین کو یکجا کرکے ایک کتاب کی شکل دینے کا کہنا ہے جس کے بعد ٹیکس قوانین کی ایک کتاب ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ کمیٹی میں ملک کے بہترین معاشی ماہرین اور قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی ان لینڈ ریوییو کوڈ کی تیاری کی نگرانی کرے گی اور تمام قوانین کو مارچ 2022 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 8 نومبر کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں کامیاب نوجوان کنونشن سے خطاب میں مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ اب تاجروں کو  کوئی ٹیکس افسر ہراساں نہیں کرگا ، لیکن تاجروں کو  ٹیکس دینا پڑے گا اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکے گا ، ایف بی ار کی ہراسمنٹ کو ختم کر دیا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھاکہ اگر وہ اس عہدے پر رہے تو اگلے دو سال تک صرف دو ٹیکسز انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہوں گے اور باقی سب ٹیکس ختم کردیئے جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر