پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول پر معاہدہ طے پا گیا

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ جون کے آخر تک پاکستان نے تمام طےشدہ معاہدں پر من و عن عمل کیا ہے سوائے بجٹ خسارے پر قابو پانے میں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے اپنے چھ ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی ہے ، دونوں فریقوں کے درمیان اسٹاف لیول پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسیز اور اصلاحات پر اسٹاف لیول کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کا مشترکہ تعاون پر اتفاق

پاکستان میں یوریا کھاد کی فی بوری 1718 روپے میں دستیاب

سوموار کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، ابتدائی طور پر جائزے کی تکمیل سے پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں سے تقریباً 1059 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاجاتا ہے تو پاکستان کو ” ای ایف ایف ” کے تحت کل رقم تقریباً 3027 ملین امریکی ڈالر ملے گی۔

آئی ایم ایف نے تسلیم  کیا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ادارے کی دی گئی پالیسیز پر بہتر طریقے عمل کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ جون کے آخر تک پاکستان نے تمام طےشدہ معاہدں پر من و عن عمل کیا ہے سوائے بجٹ خسارے پر قابو پانے میں۔

آئی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے "انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے فریم ورک” کی مالی معاونت روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران پاکستان کے ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس نے کورونا وائرس کے اثرات کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کی۔ دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریونیو کی  وصولیوں کے لیے قابل قدر اقدامات کیے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ "اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے بھی مناسب مانیٹری پالیسی کے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے صارفین کو قرضوں کی سہولتے دینے کے لیے "میکرو پرڈینشل اقدامات” کیے۔

قرض کے منظوری سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک نئے کثیر جہتی شراکتی پروگرام کا آغاز ہو گا۔ قرض کے منظوری سے مالی سال 2021-22 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں شرح نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔

مہنگائی بدستور بلندی کی جانب گامزن

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے افراط زر میں اضافہ ہوا تھا جس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ آرڈرز کی طلب و رسد میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ برآمدات بڑھنے کے باوجود رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں وسیع پیمانے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments Box