پی ایس ایکس میں مندی، 100انڈیکس میں 584 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ

معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث پی ایس ایکس 100انڈیکس 44363 پوائٹس پر بند ہوا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ عملے کی سطح کے حالیہ معاہدے کے بعد معاشی غیر یقینی صورتحال کیو وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کے روز بھی مندی کا رجحان قائم رہا۔

پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں 584 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد مارکیٹ 44 ہزار 363 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مارکیٹ میں 140 ملین کے شیئر کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 9.817 ارب روپے تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مشیر خزانہ شوکت ترین نے دی نیوز کی خبر کی تردید کردی

وفاقی حکومت کا نجی بجلی گھروں کو 134 ارب روپے کی ادائیگیوں کا فیصلہ

یہ تیسرا دن ہے کے ایس ای 100 انڈیکس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ایک دن پہلے، اسٹاک مارکیٹ 700 پوائنٹس سے زیادہ گر کر 45,000 پوائنٹ کی سطح سے نیچے آئی گئی تھی۔

قرض کے معاہدے کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی طرف سے رکھی گئی سخت شرط اور منفی افواہوں کی وجہ سے مارکیٹ میں کاروبار کا منفی پہلو غالب رہا۔

کے ایس ای 30 انڈیکس میں 255 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد کے ایس ای 17 ہزار 124 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کے ایم آئی 30 انڈیکس 1066 پوائنٹس گر کے 71 ہزار 357 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ آل شیئر انڈیکس 349 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 30 ہزار 642 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کے ایس ای میں 85 ملین شیئر کا کاروبار ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 310 شیئر کا کاروبار ہوا۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگلے ہفتے منی بجٹ پیش کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستانیوں پر تقریباً 700 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جنہیں ہم نے کم کر کے 350 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے 22 نومبر کو 6 بلین ڈالر کے پروگرام کے تحت پاکستان کو 1 بلین ڈالر کے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم، معاہدے کی سخت شرائط بشمول بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور جی ایس ٹی کی چھوٹ کے خاتمے نے سرمایہ کاروں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

Facebook Comments Box