رشوت نا دینے پر لاہور کے گریجویٹ ’’کافی‘‘ فروش پر زمین تنگ کردی گئی

رشوت کے طورپر ماہانہ چار ہزار روپے پولیس اور حکومتی اداروں کے اہلکار لے جاتےہیں

رشوت نا دینے پر لاہور سے تعلق رکھنے والے گریجویٹ  نوجوان  پر بلدیہ کے اہلکاروں نے زمین تنگ کردی ہے، نوجوان آغا علی حسنین کا  کافی کا اسٹال ” کافیتے” بند کرادیا جبکہ ایف آئی آر بھی  اسی کے خلاف درج کرادی۔

بلدیہ لاہور کے ظلم کے شکار لاہور کے رہائشی ملائشیا سے گریجویشن مکمل کرنے والے آغا علی حسنین  نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے  بتایا کہ  وہ گذشتہ آٹھ ماہ سے بلیوارڈ گلبرگ میں  سڑک کے کنارے ” کافیتے” کے  نام سے کافی کا اسٹال چلا رہا تھا    ، متعلقہ حکومتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فوڈ کی ڈگری  اور فوڈ اتھارٹی کا لائسنس ہونے کے باوجود  ماہانہ چار ہزار روپے ٹی ایم او  کے  ملازمین  اور ڈولفن پولیس کے اہلکاروں  سمیت کارپوریشن کے دیگر اہلکاروں جبری طورپر کو بطور رشوت  لے جاتے تھے جبکہ ان کی فیملیز بھی  سڑک کنارے موجود دیگر اسٹالوں سے مفت  کھانے پینے کی اشیاء لیتے رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور کے سکول ہفتے میں تین دن بند رہیں گے

لاہور میں اسموگ کا راج، ہائی کورٹ کا دفاتر میں حاضری 50 فیصد کرنے کا حکم

آغا علی حسنین کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے نئے افسران تعینات ہوئے جنہوں نے سڑک کنارے موجود تمام اسٹالز جو سرکاری اجازت نامے کے بعد قائم کئے گئے تھے ان  کے خلاف کارروائی کی ، انھوں نےبتایا کہ 15 تاریخ کو ان کے اسٹال پر کام کرنے والوں حراست میں لیا اور سامان کو ضبط   کرلیا ، سامان کو جرمانہ  اداکرکے اور ملازم کو ضمانت  دے کر رہا کرایا تاہم دو روز بعد دوبارہ گرفتار کرکے کاروبار کو بند کرادیا گیا۔

آغاعلی حسنین کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے کھانے پینے کا اسٹال لگانے والے تمام  افراد کے پاس حکومتی اجازت نامے  موجود ہیں تاہم جب تک نئے آنے والے آفیسر سے رشوت کے پیسے طے نہیں ہوجاتے وہ سب کے خلاف  تجاوزات کے خلاف آپریشن کا بہانہ بناکر ایسے اقدامات کرتے رہیں گے، انھوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ چھوٹے کاروباری لوگوں کیلئے کوئی مناسب قانون سازی کی جائے تاکہ ہم لوگ عزت سے کاروبار کر سکیں اور قانون کے   نام پر  رشوت خور افسران ہمارے گھروں کے چولہے بند نہیں کرسکیں۔

Facebook Comments Box