صہیونی ریاست مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستی کی تعمیر سے دستبردار

عطروت کو اسرائیل نے 1967 کے بعد اپنے توسیع شدہ منصوبے کے طور پر اسرائیل میں ضم کر لیا تھا

صہیونی ریاست کے اعلیٰ عہدیداران نے  امریکی صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ بیت المقدس  کے مشرقی علاقے ’’ عطروت ‘‘ میں غیر قانونی یہودی بستی کی تعمیر کے منصوبہ کو آگے نہیں بڑھائے گی۔

صہیونی ریاست اسرائیل  کے  معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ریاست کے ایک سینئر عہدیدار نے  تصدیق کی ہے کہ صہیونی  وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی حکومت نے امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی  علاقے "عطروت” میں  مجوزہ  غیر قانونی یہودی بستیوں کے مجوزہ ضخیم منصوبے کی منظوری  سے دستبردار ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیلی کمپنی نے امریکہ کی حساس معلومات چرالی؟

یورپی ممالک نے مغربی کنارے پر اسرائیلی تعمیرات کی مخالفت کردی

تفصیلات کے  مطابق  غیر قانونی صہیونی ریاست  اسرائیل کے سابق  وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو نے  مقبوضہ بیت المقد س کے مشرقی علاقے "عطروت ” میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کیلئے  4 ، 4 ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے  عالمی برادری کی جانب سے بے تحاشہ تنقید کے بعد اس منصوبے کو رکوا دیا تھا، اقوام متحدہ کے مطابق  مذکورہ علاقہ  فلسطینی ریاست کا حصہ ہے اور اس پر اسرائیل کی جانب سے یہودی بستی کی تعمیر  عالمی قوانین کی خلاف ورزی  ہے ۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے اپنے عہدوں سے رخصت ہونے کے بعد  اسرائیلی انتظامیہ نے عطروت کے علاقے میں بیت المقدس کی اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے یہودی بستی کی تعمیر کی منظوری دی تھی  جس کے تحت اس علاقے میں  غیر قانونی صہیونی آباد کاروں  کےلئے تقریبا 9 ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا  تاہم اب اسرائیلی حکام نے امریکی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عطروت میں غیرقانونی صیہونی بستی کی تعمیر سے دستبردار  ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے عطروت کو اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعداپنے  توسیع شدہ یروشلم کے حصے کے طور پر ضم کر لیا تھا۔

Facebook Comments Box