علی بابا نے زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون کو برخاست کردیا
خاتون نے سینئر افسر پر جنسی زیادتی کرنے کا الزام لگایا تھا، کمپنی پہلے ہی مذکورہ افسر کو برطرف کرچکی تھی۔
چین کی ای کامرس کمپنی علی بابا نے ایک خاتون کو ملازمت سے برخاست کردیا ہے جنہوں نے ایک سینئر افسر پر جنسی زیادتی کرنے کا الزام لگایا تھا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ جولائی میں ایک کاروباری سفر کے دوران انہیں سینئر افسر نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیے
مجھے بھی ہراساں کیا گیا، کشمالہ طارق کا حیران کن انکشاف
خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ، مرتضی وہاب کا سخت ایکشن، 2 افسران معطل
‘زو’ نامی خاتون کو نوکری سے برخاستگی کا خط پچھلے مہینے بھیجا گیا، ان کا کیس چین کی MeToo تحریک میں بہت نمایاں اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
خاتون نے کمپنی کیفے ٹیریا میں ایک بینر آویزاں کرکے اپنے ساتھ ہوئے واقعے کی روداد کو سب کے سامنے بیان کرنے کی کوشش کی اور کمپنی کی ویب سائٹ پر ایک احتجاجی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔
علی بابا کے بانی اور مالک جیک ما نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اس افسر کو برطرف کیا تھا جس پر زیادتی کا الزام تھا جبکہ دو سینئر مینجرز نے زو کی شکایت پر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اب کمپنی نے خاتون ملازم کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ زو نے زیادتی کے الزامات لگائے جو کہ کمپنی کو معلوم تھے کہ غلط ہیں لیکن پھر بھی ہم ان سے نمٹے نہیں۔
کمپنی کی جانب سے برخاست کیے گئے خط میں لکھا گیا کہ اگست سے یہ واقعہ کئی اہم موڑ سے گزر چکا ہے اور اس سے کمپنی سمیت آپ کو بھی بہت نقصان ہوا ہے۔
خاتون نے کمپنی کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں الزام لگایا تھا کہ ان کے باس وینگ نے انہیں جنان شہر کے ہوٹل میں ایک کلائینٹ سے ملاقات کے بعد شراب پی کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔









