مفرور نواز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک کو ‘خدائی انصاف’ قرار دے دیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جو قانونی فیصلے ہونے تھے وہ تو ہو چکے ، جو انصاف ہونا تھا وہ ہو چکا ، اب دیر صرف اس بات ہے کہ میاں صاحب کب ملک میں واپس آتے ہیں اور باقی ماندہ حساب دیتے ہیں۔

بدعنوانی کے مختلف مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے مفرور قرار دیے جانے والے معزول وزیراعظم نواز شریف نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیک کو ’خدائی انصاف‘ قرار دے دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے لکھا ہے کہ "آخرکار! "مسٹر کلین” کو ایک کرپٹ اور بے ایمان سیاسی آدمی کے طور پر بے نقاب کردیا گیا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ، نے اسے ‘صادق اور امین’ قرار دیا تھا کہ میری برطرفی کا انجینئر پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے سنا جا چکا ہے۔ خدائی انصاف ہو چکا ہے، صرف قانونی نظر آنا باقی ہے!

یہ بھی پڑھیے

آڈیو لیک، جیو معاملات سنبھالنا چاہتا ہے، ڈائریکٹر نیوز تاحال خاموش

افغانستان کے بہادر عوام کو ہماری مدد کی ضرورت ہے، محمد رضوان

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ”میں نہ تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی اور تکلیف دہ موت کو بھولا ہوں اور نہ ہی اس عہد کو بھولا ہوں جو ہم نے جمہوریت اور سول بالادستی کو مضبوط کرنے کے لیے کیا تھا۔”

 

میاں نواز شریف نے لکھا ہے کہ "میں اس دن کے لیے جدوجہد کرتا ہوں جس دن پاکستان ایک حقیقی جمہوریت بن جائے، انشاء اللہ۔ شہید محترمہ بی بی کو قبر میں سکون میسر آئے۔آمین”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس اپنی جگہ ، اس کا کیا فیصلہ آتا ہے یہ فی الحال الیکشن کمیشن آف پاکستان پر چھوڑ دیتے ہیں ، وہ خود ہی حساب کتاب پورا کرلیں گے ، مگر میاں صاحب جو بیماری کا جھوٹا بہانا بنا کر ملک سے فرار ہوئے تھے اس کا حساب کون دے گا ، چھوٹے میاں صاحب جنہوں نے ان کی ضمانت دی تھی وہ بھی اپنا ہاتھ پلا پکڑانے کو تیار نہیں ہیں۔ لندن میں علاج کے لیے گئے اس کی رپورٹس کہاں ہیں ، ڈاکٹر کیا کہتے ہیں کسی کو کچھ پتا نہیں ہے۔ اگر کسی ن لیگ والے سے پوچھ لیا جائے تو ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں کہ آپ کو میاں صاحب کو واپس لانے کی کیا جلدی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر چار ہفتے کے لیے لندن جانے کی اجازت دی تھی ، مگر آج پونے دو سال ہو گئے ہیں ان کا علاج ہی مکمل ہونے کو نہیں آرہا۔ اکتوبر 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں اشتہاری قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما کیس میں میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جو قانونی فیصلے ہونے تھے وہ تو ہو چکے ، جو انصاف ہونا تھا وہ ہو چکا ، اب دیر صرف اس بات ہے کہ میاں صاحب کب ملک میں واپس آتے ہیں اور باقی ماندہ حساب دیتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر