پی ٹی آئی کی کرپشن ثابت ہوچکی عوام انصاف کی منتظر ہے، مریم نواز

نائب صدر ن لیگ کا کہنا ہے عمران خان کا برانڈ نالائقی ، نااہلی ، کرپشن ، جھوٹ ، سازش ، لوٹ مار ، ہوش ربا مہنگائی ، معاشی تباہی ، بےروزگاری ، غیرملکی اور غیر قانونی فنڈنگ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اگر فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی نے چوری نہیں کی تھی تو تلاشی سے کیوں بھاگ رہی تھی۔

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جو رپورٹ ریلیز کی ہے ، جو کہ عمران خان خلاف اور پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق ہے ۔ ای سی پی کی جو رپورٹ آئی ہے اس میں ہوش ربا حقائق سامنے آئے ہیں، ان حقائق نے جو عمران خان کے چہرے پر جو بچا کچا نقاب تھا وہ بھی کھینچ دیا ہے۔ اور عمران خان کو جو چہرہ ہے وہ پورے پاکستان اور پوری دنیا کو واضح نظر آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مفرور نواز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک کو ‘خدائی انصاف’ قرار دے دیا

مریم نواز کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں جس قسم کے انکشافات ہیں ان سے قوم کا دماغ چکرا کر رہ گیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے اندر کسی سیاسی جماعت کے خلاف ، کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف ، کسی لیڈر کے خلاف اس قسم کے الزامات سامنے نہیں آئے ہیں۔جس قسم کے الزامات پی ٹی آئی اور ان کے لیڈر کے اوپر آئے ہیں۔

نائب صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ان انکشافات کے بعد بجائے اس کے کہ جواب دیا جاتا ، عمران خان پارٹی لیڈرشپ کو کہتے ہیں کہ لوگوں کے آگے عمران خان کے برانڈ کو اجاگر کیا جائے ۔ برانڈ تو آپ کا بن چکا۔ نالائقی ، نااہلی ، کرپشن ، جھوٹ ، سازش ، لوٹ مار ، ہوش ربا مہنگائی ، معاشی تباہی ، بےروزگاری ، غیرملکی اور غیر قانونی فنڈنگ کے مجرم یہ ہے آپ کا برانڈ۔

ان کا کہنا تھا عوام کی روٹی چھیننے کا مجرم ، اس ملک میں اگر حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے تو یہ ہے آپ کا برانڈ۔ جس طرح سے راہ فرار اختیار کرتے رہے ہیں ، اب وہ موقع آپ کو نہیں ملے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

رپورٹ پر سے پردہ ہٹاتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ٹوٹل 26 اکاؤنٹس تھے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق۔ یہ میرے حقائق نہیں ہیں ۔ یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حقائق ہیں۔ 26 اکاؤنٹس تھے  جس میں سے 18 پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس ایکٹو تھے ، اسٹیٹ بینک کے مطابق ۔ اس میں سے صرف 4 اکاؤنٹس پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے سامنے ڈیکلیئرڈ کیے تھے۔ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم خوش آمدید کہتے ہیں الیکشن کمیشن کی تحقیقات کو ، ان کے وزراء سارا دن کہتے رہے ہم سرخرو ہوئے ۔ کسی چیز میں آپ لوگ سرخرو ہوئے ۔ سب سے پہلے تو آپ بھاگتے رہے سات سال تک ، آپ نے طاقت سے دھونس دھاندلی کا استعمال کیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ نے طاقت سے اس فارن فنڈنگ کیس کو آگے بڑھنے سےروکا ۔ جب آپ کو پتا چل گیا کہ لوگ الیکشن کمیشن سے سوال پوچھ رہے ہیں ، مگر آپ نے رپورٹ نے ریلیز نہ کرنے کی استدعا شروع کردی ۔ آپ نے الیکشن کمیشن کو طاقت سے کہا کہ رپورٹ ریلیز نہ کی جائے ۔ سات سال تک تاخیری حربے استعمال کیے۔ کبھی ایک بہانہ ، کبھی دوسرا بہانہ ، کبھی تیسرا بہانہ۔ اب مجھے یاد آتا ہے کہ اگر آپ نے چوری نہیں کی تھی تو تلاشی کیوں نہیں دے دیتے۔ نواز شریف کی طرح  سینہ تان کو تلاشی دینی چاہیے تھی۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ کی زبردست تلاشی لی گئی۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی پوری کوشش کی ۔ ای سی پی پر دباؤ ڈالا گیا ۔ عمران خان کو فارن فنڈنگ ملی امریکا سے ، مڈل ایسٹ سے ، آسٹریلیا سے ، کینیڈا سے ، انگلینڈ سے۔ پی ٹی آئی نے دو کمپنیاں بنائیں، ایک ٹیکساس میں اور ایک کیلفورنیا میں۔ 2010 سے 2013 کے درمیان میں ۔ اور عمران خان صاحب خود ان دونوں کمپنیز کے چیئرمین تھے۔ کچھ کمپنیز آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی تھیں۔ چونکہ عمران خان خود چیئرمین تھے اس لیے جو کچھ ہوا ان کی مرضی سے ہوا۔ آپ نے رپورٹ کے مطابق جھوٹ بولا اور حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا۔ آپ نے جھوٹے سرٹیفیکٹس جمع کرائے الیکشن کمیشن میں۔ پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے نام پر فارن فنڈنگ حاصل کی گئی ۔ آفس اسٹاف کے نام پر فارن فنڈنگ حاصل کی گئی ۔

مریم نواز کا کہنا تھا جواب دینا پڑے گا غیر قانونی فنڈنگ کیسے اکٹھی کی اور منتخب وزیر اعظم و حکومت کو غیر قانونی طور پر ہٹانے کےلئے کنٹینر پر سوار ہوئے تھے، عمران خان نے جو منتخب حکومت کے خلاف فارن فنڈنگ کا پیسہ خرچ کیا، اگر کوئی فارن فنڈنگ لیتا ہے تو اس جماعت کو کالعدم قرار دیدیا جاتا ہے، دو بلین راج گروپ کی کمپنی سے لئے جن پر مقدمہ چل رہاہے، راج کمپنی نے ملین ڈالرز دئیے جسے پاکستان لائے پھر ڈونر ممتاز احمد کو کئی ہزار ڈالر دئیے اس کے بدلے رشوت کو ڈونیشن کا نام دیا، سب سے بڑی مجرمانہ فعل ہے سرکاری خزانے سے ممتاز احمد کو نتھیا گلی ہوٹل کا کنٹریکٹ پکڑا دیا اور سپیشل پوزیشن بھی  دے دی ۔ کس نے حق دیا عوام کے پیسے پر مراعات دیں، اتنی بڑی چوریاں سینہ زوری سے کرکے جھوٹ بولا گیا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان آپ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو احتساب سے بچ جاتے ہیں، غیر ملکی تحفے غیر ملکی سربراہوں سے لئے تو اوپر سے کہتے ہیں نہیں جواب دوں گا، فارن فنڈنگ پر جھوٹ و غبن کیا آٹا چینی آئل این جی بجلی مافیا کو نوازا، مہنگائی کا سیلاب عمران خان کے مافیا کی وجہ سے آیا ہے، ایک ایسے شخص کو صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دیا جس کا بال بال کرپشن و جھوٹ میں ڈوبا ہوا ہے، ثاقب نثار صاحب صادق و امین کا لقب کہاں ہے لوگ آپ پر تھوں تھوں کررہے ہیں، پوچھناچاہتی ہوں کیوں ایسے شخص کے رحم و کرم پر چھوڑا جس نے گناہوں کو چھپایا فراڈ کیا۔ نالائقی و جھوٹ و کرپشن کی وجہ سے عوام جس دلدل میں پھنس چکے ہیں سب کا ذمہ دار عمران خان اور ثاقب نثار ہے، ن لیگ و اپوزیشن ڈیمانڈ کرتی ہے عمران خان فی الفور جھوٹ بولنے پر استعفی دے غیر قانونی فنڈنگ لینے چھپانے پر گھر چلے جائیں، جھوٹ بولنے کےلئے غلط کاغذات جمع کروانے پر کارروائی ہونی چاہئیے جس اکائونٹس میں پیسہ آیا اس کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں، کتنی رقم کس غیر ملکی شخص کمپنی سے آیا کہاں خرچ آیا سب کو قوم کے سامنے لانا چاہئیے۔

Facebook Comments Box