پی ٹی آئی فارن فنڈنگ اسکروٹنی رپورٹ: رائی کا پہاڑ بنایا گیا

اپوزیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو دشمن ممالک سے فنڈز لینے کے الزامات عائد کئے لیکن ثبوت نہیں ملے

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی  جانب سے قائم کردہ اسکروٹنی کمیٹی کی تیار کردہ تہلکہ خیز رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ  حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے فنڈنگ حاصل کی ، درجنوں بینک اکاؤنٹس چھپائے  اور فنڈز کو کم دکھایا، اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں تحریک انصاف کی آڈٹ فرم پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لینے کے الزامات عائد کئے گئے تاہم  رپورٹ میں اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں  تحرک پارٹی کی جانب سے بڑی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات بتانے سے انکار اور تحریک انصاف کے غیر ملکی اکاؤنٹس اور بیرون ملک میں جمع کیے گئے عطیات کی تفصیلات حاصل کرنے میں کمیٹی کی بے بسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف  نے 10-2009 اور 13-2012 کے درمیان 4 سال کی مدت میں 31 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم کم ظاہر کی، سال کے حساب سے تفصیلات بتاتی ہیں کہ صرف مالی سال 13-2012 میں 14 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم کم رپورٹ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس، فرخ حبیب نے ن لیگ اور پی پی کا پینڈورا باکس کھول دیا

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس، اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع

رپورٹ کےمطابق  ’سال 2008 اور 2009، سال 2012 اور 2013 میں پاکستان تحریک انصاف نے ای سی پی  کے سامنے ایک ارب 33 کروڑ روپے کے عطیات ظاہر کیے۔ ’عطیات سے متعلق ای سی پی  کو غلط معلومات فراہم کی گئیں کیونکہ اسٹیٹ بینک کی اسٹیٹمنٹ سے ظاہر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ایک ارب 64 کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے جن میں سے 31 کروڑ چھپائے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ابراج گروپ آف کمپنیز کے بانی عارف نقوی کی ملکیت والی ایک غیر ملکی کمپنی (ووٹن کرکٹ لمیٹڈ) نے انتخابات سے کچھ دیر قبل پاکستان تحریک انصاف کوبیس لاکھ  ڈالر سے زائد کی رقم ادا کی۔ 2013 – عارف نقوی نے اعتراف بھی کیا کہ انھوں نے 2013 میں عمران خان کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی اور یہ رقم عطیہ کی تھی۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے تحریک انصاف پر دشمن ممالک اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لینے کے الزامات عائد کئے گئے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں  اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لینے کی  نشاندہی نہیں کی گئی ہے ،  اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے متعدد  مقامات پر فارن فنڈنگ کے حوالے سے بات کرتےہوئے کہتے رہے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس دنیا بھر سے پی ٹی آئی کو ملنے والے پیسے کی خورد برد کا کیس ہے جسے الیکشن کمیشن مسلسل التوا میں رکھ رہا ہے، تحریک انصاف کو سب سے زیادہ پیسہ اسرائیل سے آیا، یہ قادنیوں کے ایجنٹ ہیں۔

انھیں خیالات کا اظہار  پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری  نے بھی متعدد مقامات پر پی ٹی آئی پر اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لینے کے الزامات عائد کئے ہیں تاہم اسکروٹنی  کمیٹی کی رپورٹ میں  اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ تحاریر