خونخوار درندوں کو بطور پالتو جانور رکھنے پر پابندی ہونی چاہئے، سوشل میڈیا صارفین

پاکستان میں ایسے متعدد کیسز دیکھنےمیں آچکےہیں جہاں خونخوار درندوں نے عوام پر حملہ کرکے زخمی کردیا

دنیا بھر میں خونخوار جنگلی جانوروں کو  پالتو جانوروں کے طور پر رکھا جاتا ہے  گوکہ یہ عمل پسندیدہ نہیں ہے لیکن ضروری اقدامات کے ساتھ انتظامیہ کی جانب سے اس کی اجازت  دے دی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت  کی جاتی ہے کہ جنگلی جانور عوام کو کسی قسم کا نقصان نہیں  پہنچائیں گے اس کے ساتھ ساتھ ان کی ٹریننگ کے ساتھ  ان کے فطری درندہ طبیعت  کو اعتدال میں رکھنے کےلئے ادویات اور خوراک  کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان میں بھی   ایک مالدار طبقہ اپنی  اسٹیٹس کی نمود و نمائش کےلئے خوانخوار درندوں کو بطورپالتو جانور پالتے ہیں ، پاکستان میں ایسے متعدد کیسز دیکھنےمیں آچکےہیں جہاں خونخوار درندوں جن کو پالتو جانوروں کے طورپر پالا جاتا ہے انھوں نے  اپنے مالکان کے ساتھ ساتھ عوام پر حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

باپ ہیرو بننے کے لیے تیار لیکن بیٹے کو سپر ہیرو کی تلاش

پاکستانیوں نے گوگل پر فحش مواد نہیں پالتو جانوروں کی معلومات سرچ کیں

گذشتہ سال کراچی کے علاقے گلبرگ  میں پالتو شیر نے  10 سالہ بچے پر اس وقت حملہ کرکے اس کو شدید زخمی کردیا جب  شیر کا مالک اس کو باریک سی زنجیر سے باندھ کر عوام سے بھری سڑک پر نکل  آیا ،  پالتو شیر کی جانب سے بچے پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوری بعد اقدامات کرتے ہوئے مالک اور گارڈ کو مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتار کرلیا۔

ایسے ہی متعدد کیسز پنجاب کے مختلف شہروں میں رپورٹ کئے  جاچکے ہیں جہاں   گھروں میں رکھے  جانے والے پالتوں شیروں نے مالکان سمیت دیگر لوگوں پر حملہ کیا اور انھیں زخمی کردیا ۔

گذشتہ روز سوشل میڈیا  پنجاب کے ایک گھرانے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار  افراد اپنے گھر میں ایک بالغ شیر کے ساتھ  وقت گزار رہے ہیں ، گوکہ یہ شیر ان کے ساتھ نہایت مانوس محسوس ہورہا ہے اور زرا بھی خطرناک نہیں لگ رہا اس کے باوجود وہ فطری طورپر ایک خونخوار درندہ ہے  جس پر کوئی یقین نہیں کیا جاسکتا ۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کےبعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ پر تبصرے کیئے ، کسی کا کہنا تھا کہ حکومت کو  اس کا نوٹس لیناچاہئے   اور خونخوار جانوروں کو گھروں میں پالتو جانوروں کے طورپر رکھنے کی اجازت نہیں ہونا چائیے ۔

بعض صارفین کاکہنا تھا کہ انتظامیہ کو ایسے تمام افراد کی  پا بند کرنا چاہئے کہ وہ ان خوانخوار درندوں کو عوامی مقامات پر نہیں لائیں ،بعض نے تو اس پر انتہائی  ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو ان تمام افراد کے لائسنسز منسوخ کرنا چاہئیں ۔

Facebook Comments Box