روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی آمدنی 3 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی

اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2020 سے دسمبر 2021 کی مدت کے دوران بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے آر ڈی اے کے ذریعے 3.16 ارب ڈالر بھیجے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہےکہ "روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے مزید 3 سنگ میل عبور کرلیے ہیں۔ صرف 16 مہینوں میں 300,000 سے زائد اکاؤنٹس کھولے گئے، ڈپازٹس 3 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری 2 بلین ڈالر سے بڑھ گئی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ” ان شاندار نتائج کے لیے ہمارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور بینکوں کے مشکور ہیں،‘‘

یہ بھی پڑھیے

اے کے ڈی سیکیورٹیز ایشیا کا سب سے بہترین بروکریج ہاؤس قرار

سکھر میں فوڈ پانڈا رائیڈرز کا کمپنی انتظامیہ کے خلاف احتجاج

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ "دسمبر میں آمد 244 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اوسطاً 266 ملین ڈالر کی آمد ہوئی ، نومبر 2021 میں یہ آمدن 239 ملین ڈالر تھی۔”

نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (NPCs) میں کی گئی کل سرمایہ کاری 31 دسمبر 2021 تک 2.2 بلین ڈالر تھی، جس میں روایتی سرمایہ کاری 1.192 بلین ڈالر اور اسلامی سرمایہ کاری 957 ملین ڈالر رہی۔ غیرممالک میں مقیم پاکستانیوں نے ایکویٹی مارکیٹ میں 32 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔”

ترجمان اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے موصول ہونے والی رقوم سے مقامی کرنسی کو مستحکم میں مدد گار ثابت ہوگی۔ مالی سال 2021-22 کے پہلے پانچ مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7.1 بلین ڈؑالر رہا جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارہ 5.3 فیصد تھا۔ ترجمان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کی بڑی وجہ غیرملکی اشیاء کی مانگ میں اضافہ اور عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

مرکزی بینک کے ترجمان کے مطابق ستمبر 2020 میں شروع کیے گئے ڈینومینیٹڈ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح مختلف مدتوں پر 9.5 فیصد سے 11 فیصد تک ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور کمرشل بینکوں کی مشترکہ کوشش شروع کیا گیا بینکنگ سسٹم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بہترین مفاد میں ہے۔

متعلقہ تحاریر